متمتع اور مفرد کے لیے حج کی سعی عید سے پہلے کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #295Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۳): قران، تمتع اور افراد کا بیان

Question

اگر کوئی متمتع یا مفرد حج کی سعی عید سے پہلے کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟ اگر کر سکتا ہے تو اس کے لیے طواف ضروری ہے یا نہیں؟ اور طواف احرام میں کرے گا یا بغیر احرام کے نیز سعی کی تقدیم کی کیا دلیل ہے؟ جب کہ احناف کے ہاں قاعدہ ہے
: "من قدم شيئاً من نسكه أو أخر فليهرق لذلك دماً"؟

Answer

احادیث میں آتا ہے نبی پاک ﷺ نے دو سعی فرمائی تھی اور چونکہ ان میں سے ہر ایک کا وقت مذکور نہیں ہے اس لیے اس کی تقدیم میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں متمتع اور مفرد حج کی سعی عید سے پہلے کر سکتے ہیں، اگر چہ افضل یہ ہے کہ طواف زیارت کے بعد کرے ۔ سعی بغیر طواف کے مشروع نہیں، نیز طواف اور سعی حالتِ احرام میں کرے، اور
"من قدم شيئاً من نسكه

الخ
، یہ قاعدہ رمی، ذبح، حلق کے بارے میں ہے نہ کہ طواف زیارت اور سعی کے بارے میں ۔
ملاحظہ فرمائیں احادیث میں دوسعیوں کا ذکر ملتا ہے لیکن وقت مذکور نہیں ہے:

عن ابن أبي ليلى، عن علي رضي الله تعالى عنه أنه طاف لهما طوافين وسعي لهما سعيين، وقال: هكذا رأيت رسول الله ﷺ صنع. سنن دارقطني: ۲/۲٦۳/۱۳۰. وعن عمران بن حصين أن النبي ﷺ طاف طوافين وسعي سعيين. دارقطني: ۲/۲٦٤).

حلیۃ الاولیاء میں ہے:

عن رجل من بني عذرة أنه سمع علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنه لبى بحجة وعمرة معاً قال مسعر: قلت لبكير: طاف لهما طوافين وسعي لهما سعيين قال: نعم، رواه عباد بن صهيب عن مسعر مثله، وزاد هكذا رأيت النبي ﷺ صنع. (حلية الأولياء: ۷/۲۳۱، بيروت. والسنن الكبرى للبيهقي: ۵/۱۰۸، دار المعرفة، بيروت)

غنیۃ الناسک میں ہے:

وإن أراد تقديم السعي لزمه أن يتنفل بطواف بعد إحرامه للحج يضطبع فيه ويرمل ثم يسعى بعده ولو طاف للقدوم مع أنه ليس بسنة في حقه وسعي بعده وكان قد أحرم قبلهما للحج وقع سعيه معتبراً فلا يأتي به بعد طواف الزيارة. (غنية الناسك: ۱۱۵، كراچي. وكذا في الشامي: ۲/۵۱۸، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.