حیض کی وجہ سے عمرہ کا احرام کھولنے کا حکم:
Question
پندرہ سال کی ایک لڑکی نے عمرہ کا احرام باندھا پھر حیض کی وجہ سے عمرہ نہیں کیا گھر واپس چلی گئی اور احرام کھول دیا تواب عمرہ کا کیا حکم ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں حیض کی وجہ سے عمرہ چھوڑ دیا تو رفضِ عمرہ کے حکم میں ہے، لہذا عمرہ کی قضا اور ایک دم لازم ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں غنیۃ الناسک میں ہے:
فإن رفضها فعليه دم لرفضها وقضاؤها لصحة الشروع فيها. (غنية الناسك: ۱۲٤، إدارة القرآن)
الدر المختار میں ہے:
حج فأهل بعمرة يوم النحر أو في ثلاثة أيام بعده لزمته بالشروع لكن مع كراهة التحريم ورفضت وجوباً تخلصاً من الإثم وقضيت مع دم للرفض، وفي الشامية: قوله بالشروع: لأن الشروع فيها ملزم. (الدر المختار: مع الشامي: ۲/۵۸۸، سعيد).
فتح القدیر میں ہے:
وكل شيء رفضه يجب لرفضه دم وقضاؤه، فإن كان عمرة لم يلزمه في قضائها سوى عمرة. (فتح القدير: ۳/۱۲۰، دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.