دم وغیرہ واجب ہو تو حرم شریف میں ذبح کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #313Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (٦): جنایات کا بیان

Question

اگر حج میں دم یا صدقہ کفارہ وغیرہ جو واجب ہوتا ہے تو اس کو کہاں ادا کرے؟ حرم میں بھیجنا ضروری ہے یا باہر بھی کر سکتا ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں ہدی کا جانور چاہے وہ شکرانہ کی ہدی ہو یا جنایت کی حدودِ حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے، پس ہدایا کا حدودِ حرم کے علاوہ کسی اور جگہ ذبح کرنا جائز نہیں ہے ہاں صدقہ میں اختیار ہے لیکن حرم کے مساکین پر خرچ کرنا افضل ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ولا يجوز ذبح الهدايا إلا في الحرم، لقوله تعالى في جزاء الصيد: ﴿هدياً بالغ الكعبة﴾. فصار أصلاً في كل دم هو كفارة

ولأن الهدي اسم لما يهدي إلى مكان، ومكانه الحرم، قال عليه الصلاة والسلام: "منى كلها منحر، وفجاج مكة كلها منحر

." (الهداية: ۱/۳۰۱).

شرح لباب المناسک میں ہے:

في أحكام الدماء وشرائط جوازها

والثالث ذبحه في الحرم، بالاتفاق سواء وجب شكراً أو جبراً سوى الهدي الذي عطب في الطريق. (لباب المناسك مع شرحه: ٤۳۲، فصل في أحكام الدماء وشرائط جوازها، بيروت).
وفيه أيضاً: ولا يشترط في التصدق به أي بلحمه عدد المساكين

ولا فقراء الحرم فلو تصدق به على غيرهم أي غير فقراء الحرم

جاز وفقراء الحرم أفضل، أي مطلقاً. (لباب المناسك مع شرحه: ٤۳۵، فصل في أحكام الدماء وشرائط جوازها، بيروت).

مزید ملاحظہ فرمائیں: الفتاوی الہندیہ: ۱/۲٤٤ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۵/۲۳٤ ۔ و علم الفقہ: ۵/۵٦۳ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.