حالتِ احرام میں سگریٹ پینے کا حکم:
Question
حالتِ احرام میں سگریٹ پینے میں کوئی کراہت ہے یا نہیں؟
Answer
احرام اور بغیر احرام دونوں حالتوں میں سگریٹ پینا مکروہ ہے اور حالتِ احرام میں کراہت شدید ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے جن حضرات نے مباح فرمایا ہے وہ اس لیے کہ اس زمانہ میں اس کا ضرر اور شدید اسراف واضح نہیں ہوا تھا ۔ نیز اس کی بدبو سے اکثر لوگوں کو اذیت پہنچتی ہے، اس وجہ سے بدبو دار چیز کھا کر مسجد میں جانا بھی منع ہے ۔
ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال: لم نعد أن فتحت خيبر فوقعنا أصحاب رسول الله ﷺ في تلك البقعة الثوم، والناس جياع، فأكلنا منها أكلاً شديداً ثم رجعنا إلى المسجد، فوجد رسول الله ﷺ الريح، فقال: "من أكل من هذه الشجرة الخبيثة شيئاً، فلا يقربنا في المسجد
(مسلم شريف: ۱/۲۰۹).
قال الإمام النووي رحمه الله في شرح هذا الحديث: قال العلماء ويلحق بالثوم والبصل والكراث كل ماله رائحة كريهة من المأكولات وغيرها
قال القاضي: وقاس العلماء على هذا مجامع الصلاة غير المسجد كمصلي العيد والجنائز ونحوها من مجامع العبادات، وكذا مجامع العلم والذكر والولائم ونحوها. (شرح المسلم للنووي رحمه الله: ۱/۲۰۹).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سگریٹ پینا مکروہ ہے، بغیر منہ صاف کیے ہوے مسجد میں جانا جس کی بدبو سے دوسروں کو اذیت پہنچے منع ہے:
وأكل نحو الثوم: أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان اٰكل الثوم والبصل المسجد، قلت: علة النهي أذي الملائكة وأذي المسلمين. (الشامي: ۱/٦٦۱، سعيد. (
فتاوی محمودیہ: ۱۸/۳۸۹، مبوب و مرتب) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی رحیمیہ: ۲/۲۴۱ ۔ ۲۴۵ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.