وقوفِ مزدلفہ بغیر عذر کے ترک کرنے پر دم کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #324Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (٦): جنایات کا بیان

Question

کچھ مرد اور عورتیں عرفات سے مزدلفہ پہونچے اور ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی تھی کہ ڈرائیور نے ان کو نکال دیا یہ لوگ پھر واپس مزدلفہ نہیں آئے تو دم واجب ہوگا یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں دم واجب ہے اس لئے کہ وقوفِ مزدلفہ طلوعِ فجر سے طلوعِ شمس تک واجب ہے اور بغیر عذر کے واجب کا ترک پایا گیا، اور ڈرائیور کا نکال دینا کوئی عذر نہیں ۔
ملاحظہ ہو الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

وهذا الوقوف عندنا واجب وليس بركن حتى لو تركه بغير عذر يلزمه دم. (الجوهرة النيرة: ۱/۱۹٤).

فتاوی الشامی میں ہے:

قوله ثم وقف هذا الوقوف واجب عندنا لا سنة والبيتوتة بمزدلفة سنة مؤكدة إلى الفجر لا واجبة، خلافاً للشافعي رحمه الله فيهما، كما في اللباب وشرحه، قوله ووقته الخ

أي وقت جوازه قال في اللباب: وأول وقته طلوع الفجر الثاني من يوم النحر وآخره طلوع الشمس منه فمن وقف بها قبل طلوع الفجر أو بعد طلوع الشمس لا يعتد به وقدر الواجب منه ساعة ولو لطيفة. (فتاوى الشامي: ۲/۵۱۱، سعيد).

شرح لباب میں ہے:

والوقوف بمزدلفة أي ولو ساعة بعد الفجر، وفي إرشاد الساري: أي عرفية لا نجومية. (شرح اللباب مع ارشاد الساري: ۷٦، فصل في واجباته، بيروت).

احسن الفتاوی میں ہے:
اگر وقوفِ مزدلفہ کسی قدرتی عذر کی وجہ سے نہ ہو سکا مثلاً کوشش کے باوجود عرفات سے مزدلفہ طلوع آفتاب سے قبل نہ پہونچ سکا تو کوئی جزا واجب نہیں ۔ البتہ مخلوق کی طرف سے کسی رکاوٹ کی وجہ سے یا عمداً ترک وقوف سے دم واجب ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۴/۵۲۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.