وقوف مزدلفہ کے دوران جنون لاحق ہونے سے حج کا حکم:
Question
ایک عورت کو وقوف مزدلفہ کے دوران جنون کا دورہ پڑا اور اب تک یہ کیفیت باقی ہے اور یہ عورت طواف زیارت سے محروم رہی اب حلال ہونے کی کیا صورت ہے؟ نیز تاخیر کا کیا کفارہ ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اس عورت کی طرف سے اگر کسی نے طوافِ زیارت کر لیا تو اس کا حج ادا ہو جائے گا، پھر افاقہ کے بعد اس عورت پر طواف زیارت کرنا لازم ہوگا، اور تاخیر کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ وغیرہ واجب نہیں ہوگا، اس لیے کہ یہ حالتِ عذر ہے جو معاف ہے۔
ملاحظہ ہو لباب المناسک میں ہے:
ولو أحرم صحيح أي عاقل ليس فيه مرض الجنون ثم جن فأدي المناسك أي بمباشرته لها أي بنيابة عنه في بعضها ثم أفاق بعد سنين يجزئه عن الفرض إلا أنه يلزمه الطواف فإنه يشترط فيه أصل النية ولا تجزء فيه النية. (لباب المناسك مع شرحه: ٤۲، باب شرائط الحج، بيروت).
غنیۃ الناسک میں ہے:
ولو أحرم صحيح ثم جن فقضي به أصحابه المناسك ونووا عنه في الطواف به ثم أفاق ولو بعد سنين أجزأه عن الفرض ويجوز النيابة عنه في نية الطواف للضرورة وإن لم تجز في نفس الطواف لا مكانه محمولاً فإن طافوا به ولكنهم لم ينووا عنه لزمه الطواف بعد الإفاقة. (غنية الناسك: ٤، شرائط الحج، إدارة القرآن. وشرح اللباب: ۲۵۷، بيروت).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر کسی صحیح عاقل نے احرام باندھا یعنی احرام باندھتے وقت اس میں جنون کا مرض نہیں تھا پھر اس کو جنون لاحق ہو گیا یا احرام باندھتے وقت افاقہ تھا اور وہ نیت اور تلبیہ کو سمجھتا تھا اور اس نے نیت اور تلبیہ ادا کیا پھر اس نے مناسک اس طرح پر ادا کیے کہ اس کی طرف سے نیابۃً کسی دوسرے شخص نے بعض مناسک ادا کیے اور اسے بھی ساتھ ہی رکھا اور اس کی طرف سے طواف زیارت کی نیت کی پھر حج کرنے کے بعد اس مجنون کو افاقہ ہوا اگر چہ کئی سال کے بعد ہوا تو وہ حج فرض ادا ہو جائے گا اور اس کی طرف سے طواف زیارت کی نیت میں نیابت ضرورت کی وجہ سے جائز ہے لیکن نفس طواف میں نیابت جائز نہیں ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: حصۂ چہارم، کتاب الحج، ۳۲، مجددیہ، و زبدۃ المناسک، تیسری شرط عقل ص ٤۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.