مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی فضیلت:
Question
مدینہ منورہ میں چالیس نمازوں کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ جب کہ حج، عمرہ کرنے والے اس کا اہتمام کرتے ہیں ۔
Answer
مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں مجمع الزوائد میں ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من صلى في مسجدي هذا أربعين صلاة لا تفوته صلاة كتب له براءة من النار وبراءة من العذاب وبرئ من النفاق. قلت: روي الترمذي بعضه. ورواه أحمد والطبراني في الأوسط ورجاله ثقات.
(مجمع الزوائد: ٤/ ۸، باب فيمن صلى بالمدينة أربعين صلاة، دار الفكر).
یعنی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص میری مسجد میں چالیس نماز یں اس طرح ادا کرے کہ اس کی کوئی نماز فوت نہ ہو تو اس کے لیے دوزخ سے براءت اور عذاب سے براءت اور نفاق سے براءت لکھی جائے گی ۔
وكذا ذكره الحافظ المنذري في الترغيب والترهيب: (۳/ ۱۰٦) وقال: رواه أحمد ورواته رواة الصحيح والطبراني في الأوسط، وهو عند الترمذي بغير هذا اللفظ. وكذا في مسند الإمام أحمد بن حنبل: (۳/ ۱۵۵).
اس حدیث پر البانی صاحب کا اعتراض اور اس کے جوابات تفصیل کے ساتھ "فتاوی دار العلوم زکریا جلد اول ابواب الحدیث و الآثار" کے تحت ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.