منیٰ اور مزدلفہ کا مکہ مکرمہ سے اتصال کا حکم:
Question
جو شخص یکم ذی الحجہ کو مکہ شریف پہنچے اور بیس روز قیام کی نیت کرے تو وہ شخص قیام مکہ معظمہ میں نماز پوری پڑھے گا یا قصر کرے گا؟ ایسا شخص مقیم ہے یا مسافر؟
Answer
حامداً و مصلیاً: وہ شخص مقیم نہیں بلکہ مسافر ہے اس کو چاہیے کہ مکہ مکرمہ میں بھی قصر کرے اور منیٰ عرفات اور مزدلفہ میں بھی قصر کرے الخ، بحر: ۲/۱٤۳، (فتاوی محمودیہ: ۳/۱۸٤) ۔
فائدہ: اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ اور منیٰ دونوں الگ الگ مقامات ہیں لہذا اقامت کی نیت صحیح نہ ہو گی، اور بدستور مسافر رہے گا اور قصر کرے گا ۔
خیر الفتاوی میں ہے:
عرفات کے بارے میں زیادہ بحث کی حاجت نہیں ہے کیوں کہ حجاج وہاں رات نہیں گزارتے اور دن میں کہیں چلے جانا یہ نیتِ اقامت پر اثر انداز نہیں، البتہ مزدلفہ میں رات گزارنا یا مکہ میں نیت اقامت کے لیے مبطل ہوگا کیونکہ مزدلفہ نہ مکہ میں داخل ہے نہ ہی فناء مکہ میں داخل ہونے کی کوئی دلیل ہمارے سامنے ہے، نیز مزدلفہ منیٰ کے ساتھ متصل نہیں بلکہ منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان وادی محسر حائل ہے، در مختار میں ہے: المزدلفۃ کلہا موقف الا وادی محسر ہ و واد بین منی و مزدلفۃ ۔ بالفرض متصل بھی ہو تو بھی پورے مزدلفہ کو جو تقریباً دو میل تک پھیلا ہوا ہے، منیٰ کے تابع قرار دینا سمجھ میں نہیں آتا مثلاً کسی شہر کے متصل دس میل کا طویل عریض میدان ہے تو اس پورے میدان کو شہری فناء تصور کرنا کیوں کر درست ہوگا؟ جب مزدلفہ نہیں تو عرفات بطریق اولیٰ فناء مکہ میں داخل نہ ہوگا، جب کہ منی اور عرفات کے درمیان تقریباً چھ میل کا فاصلہ ہے، فوجی انتظامی لحاظ سے حفاظتی چوکیوں کا عرفات سے آگے واقع ہونا یہ کچھ مفید نہیں کیوں کہ شاید ایسی چوکیاں پورے راستے پر بنائی جاتی ہیں، جیسے طریق مکہ اور مدینہ پر چوکیاں تعمیر کی گئی ہیں ۔ منی و مکہ یہ دونوں تو حسبِ تصریح فقہاء بلاشبہ دو مستقل مواضع ہیں ان میں سے ہر ایک کی مستقل حد بندی موجود ہے یہ ابتداء منی ہے مناسک حج کے اعتبار سے بھی یہ دونوں مواضع ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
شہر ہی تصور کیے جائیں گے، جو احکام منی سے متعلق ہیں وہ اسی قطعہ میں ادا کیے جائیں گے، مکہ میں ان کی ادائیگی جائز نہ ہو گی اور اسی طرح اس کے برعکس، علاوہ ازیں ایک شخص جب مکہ مکرمہ سے روانہ ہو کر منی کی حدود میں داخل ہوا تو اس پر صادق آئے گا کہ وہ مکہ سے نکل گیا ہے اور یہ کہنا صحیح ہے کہ وہ منی میں ہے مکہ میں نہیں ہے ایک شہر کے مختلف محلوں کے بارے میں ایسی نفی صحیح نہیں ہے یوں کہنا درست نہیں ناظم آباد میں ہے کراچی میں نہیں ان وجوہ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے جن مواضع کو مستقل قرار دیا ہے اور ان سے متعلق شرعی احکام بھی الگ الگ ہیں اور ان کی واضح طور پر قطعی حد بندی موجود ہے تو انھیں سفر کے بارے میں دو الگ مواضع شمار کیا جائے لہذا صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور حج سے قبل مقیم نہ ہوگا جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے ۔
"أن الحاج إذا دخل مكة في أيام العشر ونوي الإقامة نصف شهر لا يصح لأنه لا بد له من الخروج إلى عرفات فلا يتحقق الشرط". (البحر: ۲/۱٤۳)
فقط واللہ اعلم ۔ (خیر الفتاوی: ٤/۲٤۸) ۔
عمدۃ الفقہ میں ہے:
جہاں ٹھہرنے کی نیت کی وہ جگہ ٹھہرنے کے لائق ہو یعنی شہر یا بستی ہو، اگر جنگل یا دریا یا غیر آباد جزیرہ میں ٹھہرنے کی نیت کی تو صحیح نہیں، جب کہ مزدلفہ ایسا نہیں ۔
نیز اگر کوئی شخص دو مقاموں میں پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ دونوں مقام مستقل جدا جدا ہوں جیسے مکہ اور منی یا کوفہ اور حیرہ تو وہ مقیم نہ ہوگا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/٤۱۵ ۔ ٤۱٦) ۔
معلم الحجاج میں ہے:
جو حاجی مسافر مکہ مکرمہ میں ایسے وقت آئے کہ آٹھویں تاریخ تک پندرہ روز سے کم ہیں اور وہ مکہ مکرمہ میں پندرہ روز یا زیادہ اقامت کی نیت کرے تو اس کی نیت اقامت صحیح نہ ہو گی وہ مسافر رہے گا، کیوں کہ آٹھویں تاریخ کو وہ منی اور نویں کو عرفات ضرور جائے گا اس لیے ایسے شخص کو قصر کرنا چاہیے ۔ (معلم الحجاج: ۱۵۷) ۔
(٤) منی کو الگ شمار کرنے میں سہولت اور آسانی بھی ہے اس لیے کہ لاکھوں حاجیوں کے یوم الترویہ تک مکہ مکرمہ میں ۱٤ دن یا اس سے کم بنتے ہوں تومنی کے ایام کو علیحدہ کر کے وہ مسافر بن جائے گا جس کو نماز میں قصر کی سہولت اور مسافر ہونے کی وجہ سے قربانی واجب نہ ہونے کی سہولت مل جائے گی ۔
"إن النبي ﷺ قال لمعاذ بن جبل وأبي موسى الأشعري عند ما أرسلهما إلى اليمن فقال لهما: يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وكذلك قال عليه الصلاة والسلام: يسروا ولا تعسروا، وبشروا ولا تنفروا، واعلموا أن أحداً منكم لن يدخل الجنة بعمله". (بخاري: ۲/٦۲۲، باب بعث أبي موسى ومعاذ إلى اليمن قبل حجة الوداع، ومسلم).
وقال عليه الصلاة والسلام: لا تشددوا فيشد الله عليكم، فإن قوماً شددوا على أنفسهم فشدد عليهم فتلك بقاياهم في الصوامع. (أخرجه أبو داود برقم ٤۹۰٤).
وقال الله تعالى في رخصة إفطار المريض والمسافر: ﴿يريد الله بكم اليسر، ولا يريد بكم العسر﴾.
ويدل على اعتبار اليسر واقعة تمرة خيبر في الحديث المشهور وفي آخره: لا تفعل بع الجمع بالدراهم ثم ابتع بالدراهم جنيباً. (رواه البخاري: ۱/۲۹۳، باب إذا أراد بيع تمر بتمر).
لیکن سہولت کا یہ مطلب نہیں کہ حرام کو حلال اور غلط کو صحیح کہ دیا جائے ۔
(۵) اتصال یا انفصال کے باوجود عرف عام اور حکومتی تحدید میں اختلاف ہو جائے تو اعتبار عرف عام کا ہونا چاہیے کا ہونا چاہیے ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
دو بستیوں کے درمیان وجود مزارع یا قدر غلوہ ۱٦ ۔ ۱۳۷ میٹر علامت انقطاع ہے، لہذا اگر دو مواضع عرف عام میں ایک ہی شہر کے دو محلے سمجھے جاتے ہوں تو فصل مذکور کے باوجود دونوں کو ایک موضع قرار دیا جائے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۷٤) ۔
عرف و عادت کو حکومت کی حد بندی پر ترجیح دینی چاہیے جب تک عرف نص کے خلاف نہ ہو تو عرف پر عمل کرنا چاہیے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وعلي المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف﴾
معروف سے مراد عرف و عادت کے موافق ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: "
ماراه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن".
شارح مجلہ لکھتے ہیں:
ان العرف والعادة يكون حجة اذا لم يكن مخالفاً للنص
۔ (
۱/۸۱. ۸۹. وشرح عقود رسم المفتي: ٤۱)
بلکہ بعض صورتوں میں اگر نص کی بنیاد عرف پر ہو تو عرف ہی کو بنیاد بنایا جائے گا، مثلاً پرانے زمانے میں حنطہ و شعیر کیلی تھے توربا وغیرہ میں احادیث میں ان کو کیلی قرار دیا گیا، لیکن جب بعد والے زمانے میں یہ وزنی بن گئے تو ان کو وزنی قرار دیا جائے گا، جیسے اس زمانے میں لوگ کیل کو جانتے بھی نہیں تو حنطہ و شعیر کو وزنی قرار دینا نص کی تبدیلی نہیں بلکہ نص کا منشا اور اساس سمجھنا ہے ۔
علامہ شامی نے ابن ہمام رحمه الله سے امام ابو یوسف رحمه الله کے قول کی ترجیح نقل فرمائی ہے:
عن الثاني اعتبار العرف مطلقاً ورجحه الكمال وخرج عليه سغدي آفندي
۔ (
الدر المختار: ۵/۱۷٦، باب الربا، سعيد. وشرح مجلة: ۱/۸۱، المادة: ۳٦).
خلاصہ یہ ہے کہ اگر نص خود عرف کا تابع ہو تو عرف کی تبدیلی سے نص کا ترک لازم نہیں آتا، کیوں کہ اصل عرف ہے لہذا عرف کا اعتبار ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
دیگر مفتیانِ کرام کی آراء:
جن مفتیانِ کرام و علماءِ عظام کا اسی کے مطابق فتویٰ ہے ان کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں ۔
(۱) دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ۔
(۲) مفتی محمد حسین، دار الافتاء و الارشاد، جامعۃ الرشید کراچی ۔
(۳) مفتی عبد الواحد، جامعہ مدینہ کریم پارک وادی روڈ لاہور ۔
(٤) مفتی عصمت اللہ، دار الافتاء، دار العلوم کراچی ۔
(۵) حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے استفسار پر سعودی عرب کے دار الافتاء
"رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء"
کے نام ایک سوال ارسال فرمایا کہ: پہلے زمانے میں منیٰ اور مکہ دو الگ مقامات شمار کیے جاتے تھے، مگر آج کل ان دونوں میں اتصال اور قرب پایا جاتا ہے، تو کیا یہ دونوں جگہیں ایک ہی شمار ہوں گی، یا الگ الک؟ اس پر
"اللجنة الدائمة"
نے جواب دیا کہ "یہ دونوں الگ الگ جگہیں ہیں، اور قرب و اتصال کا کوئی اعتبار نہیں ۔
اس جواب پر وہاں کے بڑے مفتیان کرام کے دستخط ہیں مثلاً:
(۱) عبد العزیز بن عبد اللہ بن محمد آل شیخ ۔ (۲) صالح بن فوزان العفوزان ۔ (۳) احمد بن علی سیر المبارکی ۔
(٤) عبد اللہ بن محمد المطلق ۔
اس فتویٰ کی فوٹو کاپی ملاحظہ فرمائیں: ۔
(٦) اسی طرح الدکتور سعید احمد عنایۃ اللہ وغیرہ جو مدرسہ صولتیہ کے دراسات علیا کے اساتذہ میں سے ہیں، نے ۲۰۰٤ء میں موسح حج میں اسی قسم کا ایک استفتاء مفتی مملکت سعودی عرب الشیخ عبد العزیز کی خدمت میں بھیجا تھا کہ منیٰ، مزدلفہ اور عرفات الگ الگ ہیں یا شہر مکہ کے تابع ہیں؟
جواباً مفتی صاحب نے انھیں فون پر کہا کہ ان مذکورہ مقامات کی مستقل حیثیت ہے اور وہ مکہ مکرمہ شہر کا حصہ نہیں ۔
(۷) حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب، جو کئی سالوں سے مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں، فرماتے ہیں کہ منیٰ ہر حالت میں مکہ مکرمہ سے منفصل جگہ ہے، نیز فرماتے ہیں: بعض حضرات کا یہ فرمانا کہ اس وقت مکہ مکرمہ اور منیٰ کا اتصال ہو چکا ہے، تو یہ امر واقعہ کے خلاف ہے، شرعاً اتصال نہیں ہوا، اس راقم نے بمعیت مفتی ابو لبابہ صاحب، حضرت مفتی عبد الحمید صاحب اور دیگر حضرات کے ساتھ گاڑی سے منیٰ سے مکہ مکرمہ اور مکہ سے منی جانے والے ہر راستہ پر جا کر وہ مسافت ناپی جو دونوں کے درمیان ہے تو کسی طرف سے بھی ۹۰۰ میٹر سے کم نہ تھی تو اتصال شرعاً کیسے ہوگا؟
(۸) حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب دامت برکاتہم، رئیس دار الافتاء جامعہ خلفاء راشدین، کراچی کا اس بارے میں مفصل فتویٰ ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں: بندہ کا مدرسہ صولتیہ جانا ہوا، حضرت مولانا ہشیم صاحب مہتمم مدرسہ صولتیہ سے اس موضوع پر تفصیلی بات ہوئی، اس وقت ان کی رائے کا مدار اتصال اور محاذات پر تھا، جس پر بندہ نے عرض کیا کہ زیر بحث مسئلہ میں قریتین کا اتصال نہیں، بلد اور مفازہ کا ہے آخر میں انھوں نے فرمایا کہ اس پر آج تک ہم نے غور نہیں کیا ۔
(۹) مذکورہ بالا فتویٰ میں مفتی عبد الرحمن الکوثر بن مولانا مفتی عاشق الٰہی بلند شہری، استاذ جامعہ طیبہ مدینہ منورہ کا فتویٰ بھی شامل ہے، آپ نے حال (۱٤۲۸ھ) میں منیٰ اور اس کے مضافات کا مشاہدہ کر کے تحریر فرمایا ہے کہ: دونوں الگ الگ جگہیں ہیں ہمارے ادراک کے مطابق عرف میں منیٰ کو مکہ مکرمہ کا محلہ نہیں کہا جاتا ہے، اور منیٰ میں تو آبادی بھی نہیں ہے ۔
(۱۰) مفتی محمد عبد اللہ مفتی جامعہ خیر المدارس، ملتان نے بھی ہر طرح سے منیٰ کے مکہ مکرمہ کا جزء ہونے کی نفی کی ہے نہ منیٰ فناء مکہ ہے، نہ حقیقۃً یا حکماً مکہ مکرمہ سے متصل ہے ۔
(۱۱) حضرت مولانا مفتی اسماعیل طور و صاحب جامعہ اسلامیہ صدر راول پنڈی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ عرفاً منیٰ اور مکہ الگ الگ مقامات ہیں، اور منیٰ مکہ مکرمہ کی فنا بھی نہیں، اس لیے کہ اگر شہر کی ضروریات کی بنا پر اسے فنا قرار دے رہے ہیں تو یہ بات تو فرضیت حج کے روز اول سے پائی جاتی ہے، مگر پھر بھی فقہاء کرام نے منیٰ کو مکہ کی فنا نہیں قرار دی اور اتمام کا حکم نہیں دیا ۔
(۱۲) مفتی انعام اللہ، جامعہ اسلامیہ اسلام آباد نے مسئلہ ہذا کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے، قائلین اتحاد موضعین کے ہر مستدل اور ہر شبہ کا جواب دیا ہے ۔
فرماتے ہیں کہ فقہاء کے نزدیک اتحاد و انفصال کی تعریف میں مختلف اقوال ہیں، پھر ٦ /اقوال نقل فرما کر لکھتے ہیں کہ: قطع نظر اس سے کہ ان اقوال میں راجح کیا ہے؟ بظاہر نظر کرنے سے مذکورہ بالا فقہی اقوال میں سے کسی بھی قول کے مطابق دونوں جگہوں میں اتصال نہیں ۔ اور نہ عرفاً یہ دونوں جگہیں ایک ہیں، بلکہ الگ الگ ہیں، اس لیے کہ:
۱- اگر عرف میں منیٰ کا مکہ سے اتصال ہو چکا ہوتا تو ا س مسئلہ پر بحث کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی ۔
۲- پچھلا عرف دونوں میں بالاتفاق انفصال کا تھا، اور اس عرف قدیم کے تبدیل ہونے کے ٹھوس دلائل نہیں ہیں ۔
۳- لوگ کہتے ہیں: یوم الترویہ کو حاجی مکہ سے منیٰ جائیں گے، چلے جاتے ہیں، چلے گئے اور رمی اور قربانی کے بعد حجاج منیٰ سے مکہ واپس لوٹتے ہیں، واپس آتے ہیں، یہ سب دونوں مقامات میں مغایرت کی دلیل ہے، اسی طرح
﴿ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس﴾
یا
﴿فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه﴾
یا
﴿فإذا أفضتم من عرفات فاذكروا الله﴾
ان آیات میں بھی مکہ، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان آنا جانا مراد ہے ۔
الغرض کثیر تعداد میں مفتیان کرام قدیم قول کی طرف مائل ہیں، اور اسی کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں ۔ اور لوگ اس پرانے قول کے عادی ہیں، نیز مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت فیوضہم نے اس مسئلہ پر بحث کے دوران یہ فرمایا تھاکہ جب تک اس مسئلہ پر اتفاق یا تحقیق نہ ہو تو پر انا فتویٰ چلنا چاہیے پرانے فتویٰ میں دونوں جگہیں یعنی منیٰ اور مکہ مکرمہ الگ الگ شمار کی جاتی ہیں اور اس مجلس کے مفتی حضرات نے حضرت مفتی رفیع صاحب سے اتفاق فرمایا ۔ مفتی صاحب نے یہ بات حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری مہتمم جامعہ خیر المدارس کے جواب میں فرمائی، مولانا حنیف صاحب نے استفسار فرمایا کہ جب تک اتفاق یا تحقیق نہ ہو تو ہم عوام کو کیا بتائیں تو مفتی صاحب نے فرمایا کہ پر انا فتوی چلنا چاہیے، دوسرے مفتیان کرام نے اس کے ساتھ اتفاق کیا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
اتحاد والوں کے دلائل پر ایک نظر:
قائلین اتحادِ منیٰ و مکہ مکرمہ کے بعض شواہد و شبہات اور ان کے جوابات مختصراً عرض کیے جاتے ہیں:
(۱) عموماً اس موضوع پر مقالہ نگار حضرات فضیلۃ الشیخ حضرت عبد اللہ بن سبیل کے فتویٰ سے استدلال کرتے ہیں ۔
اس بارے میں بہتر یہ ہے کہ اپنے طور پر کوئی اندازہ لگانے کے ب جائے وہاں کے حضرات سے رجوع کرنا چاہیے، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے مسجد حرام کے معمر ترین امام فضیلۃ الشیخ سے اسی سلسلہ کا استفسار فرمایا جس کے جواب میں فضیلۃ الشیخ نے جو تحریر فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
"منیٰ شہر مکہ کا ایک حصہ اور محلہ بن گیا " ان کے جواب کا متعلقہ حصہ یہ ہے:
الذي يظهر لنا أن منى أصبحت اليوم جزء من مدينة مكة
إن حكومة المملكة العربية السعودية تعد منى من مكة على اعتبار أنها حي من أحيائها إلا أن الحكومة تمنع البناء فيها لمصلحة عامة؛ لأنه لا يجوز لاحد أن يتملك ولا يختص بمنى ولا غيرها من المشاعر لقول النبي ﷺ: "منى مناخ من سبق".
الجواب: حضرت مفتی احمد ممتاز صاحب جامعہ خلفاء راشدین کراچی نے اس کا جواب دیا ہے:
(۱) صرف سماحۃ الشیخ کی رائے کو عرف اغلب و اشہر سمجھنا درست نہیں ۔
(۲) بظاہر حضرت کے فتویٰ میں تعارض ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حکومت منیٰ کو مکہ کا ایک محلہ قرار دیتی ہے اور اپنا بھی یہی رجحان ذکر کیا، پھر آگے کہتے ہیں: حکومت وہاں بنا اور تعمیرات سے روکتی ہے" تو اب محلہ اور عدم بنا جمع نہیں ہو سکتے، کیوں کہ شہر کی آبادی سے باہر میدان کو کسی طرح بھی محلہ مصر نہیں کہا جاتا، بلکہ شہر سے متصل آبادی محلہ جو کسی وجہ سے مسمار ہو گیا، اسے بھی اب شہر کا محلہ نہیں سمجھا جاتا، لہذا منیٰ مکہ مکرمہ کا محلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ البتہ شہر کے قرب و جوار میں آباد محلوں کو شہر کا حصہ کہا جاتا ہے ۔
لہذا اگر ان کی یہ خاص رائے ہے کہ میدان جو آبادی سے باہر ہو شہر کا حصہ ہے تو سب پر حجت نہیں ۔
(۳) تیسری بات یہ ہے کہ
"لأنه لا يجوز لا حد أن يتملك
"
سے پتا چلتا ہے کہ حکومت منیٰ اور دوسرے مشاعر کو شہر مکہ سے الگ کرنا چاہتی ہے اس لیے وہاں کسی کو تعمیر کی اجازت نہیں دیتی ۔
(۲) بعض حضرات فرماتے ہیں کہ چار باتوں کی وجہ سے منیٰ کو فناء مکہ کہنا چاہیے: (۲) وہاں قربان گاہ ہے ۔ (۲) حجاج کی اجتماع گاہ ہے ۔ (۳) گاڑیوں کی پارکنگ ہے ۔ (٤) تفریح گاہ ہے ۔
الجواب: یہ بات چند وجوہ کی بنا پر صحیح نہیں ۔
(۱) وہاں مصالح میں سے ایسی کوئی چیز نہیں جو مکہ مکرمہ کے ساتھ خاص ہو ں وہاں تمام انتظامات ادائے مناسک کے لیے کیے جاتے ہیں اور اہل مکہ ان سے تبعاً استفادہ کرتے ہیں، مگر تبعاً استفادہ کرنے سے ان کو مصالح مکہ نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ قربان گاہ بھی اداء مناسک، دم شکر وغیرہ کے لیے ہے، اس کے ضمن میں اگر اہل مکہ کو پابند کیا گیا کہ وہ بھی اضحیہ یہیں کیا کریں تو یہ اتنظام تبعی ہے، اس کی وجہ سی منیٰ فناء مکہ نہیں ۔
(۲) اگر بالفرض قربان گاہ کو مصلحت شہر کہہ کر اس کو فناء کہا جائے تو فناء وہ خاص احاطہ ہوگا جو قربان گاہ کے لیے مختص ہے، اس کی وجہ سی منیٰ کا پورا میدان فناء نہ بنے گا ۔
(۳) وہاں لوگ گاڑیاں بوقتِ ضرورت قرب بلد کی وجہ سے پارک کرتے ہیں، پارکنگ کے لیے وہ جگہ مقرر نہیں ۔
(٤) وہاں تفریح کے لیے کوئی مخصوص پارک وغیرہ نہیں ہے، لوگ ویسے ہی چلے جاتے ہیں ۔
(۵) منیٰ میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ شیخین کے ہاںجائز، امام محمد رحمه الله کے ہاں جائز نہیں، اگر منیٰ فناء مکہ ہوتا تو شیخین اور امام محمد رحمه الله کے درمیان اس اختلاف کی نوبت ہی نہ آتی، اس لیے کہ فناء چاہے شہر سے متصل ہو یا منفصل وہاں ہر صورت میں جمعہ درست ہے ۔
یہ اختلاف واضح دلیل ہے کہ منیٰ فناء مکہ نہیں ۔
(٦) اگر بالفرض منیٰ میں اہل مکہ کی تفریح گاہ اور کھیل کی جگہ ہے، تب بھی یہ حاجت یا مصالح بلد میں داخل نہیں ۔
الموفقات میں ہے:
أما الحاجات فمعناها أنها مفتقر إليها من حيث التوسعة ورفع الضيق المودي في الغالب إلى الحرج والمشقة
(الموفقات: ۲/۹).
(۷) اگر قربان گاہ ہونے کی وجہ سے منیٰ کو فناء مکہ کہتے ہیں تو موقف ہونے کی بناء پر مزدلفہ اور عرفات کو بھی فنا کہنا چاہیے جہاں جہاں علت ہو وہاں حکم آئے گا ۔ اور اگر کوئی یہ ک ہے کہ مزدلفہ اور عرفات چونکہ مکہ سے دور ہیں اس لئے اسے فناء مکہ نہیں قرار دے سکتے؟ تو علامہ شرنبلالی کی تحقیق کے مطابق یہ اعتراض قابل اعتماد نہیں، ان کے یہاں مصالح کا اعتبار ہے، دوری کا نہیں ۔
(۸) منیٰ کے فناء ہونے کے بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں وہ سب کتاب الجمعہ کی عبارات ہیں، جمعہ اور عیدین حوائج مصر میں سے ہیں، لیکن قصر حوائج میں سے نہیں ۔ مراقی الفلاح میں ہے:
ولا يلحق فناء المصر بالمصرفي حق المسافر، يلحق الفناء بالمصرفي حق صلاة الجمعة. (مراقي الفلاح: ص ۲۵٤).
(۳) ایک عام بات جس کی بنیاد پر اس بحث کی ضرورت پیش آئی وہ یہ ہے کہ یوں کہا جاتا ہے کہ: "اب صورت حال یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کی آبادی منیٰ سے بھی متجاوز ہو چکی ہے اور منیٰ مکہ مکرمہ کا ایک حصہ ہے" اگر چہ پہلے دونوں الگ الگ تھے ۔ اسی بنا پر بہت سے حضرات اتحاد کے قائل ہیں، مختلف الفاظ میں سب یہی بات کہتے ہیں ۔ بعض مفتی حضرات نے فرمایا کہ انھوں نے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں حج کے زمانے میں ایک فتویٰ ۲۰۰۰ء مطابق ۱٤۲۰ھ میں لکھا تھا اور اس پر مفتیان واردین مدرسہ صولتیہ کی تصدیقات بھی ہیں مثلا مفتی شبیر احمد مراد آبادی صاحب، مفتی فاروق میرٹھی صاحب، مفتی احمد خان پوری صاحب، مفتی سلمان منصور پوری وغیرہ، نیز یہی
بات اسلامک فقہی اکیڈمی کے دسویں فقہی سیمینار میں کہی گئی: "پہلے دونوں کی آبادیاں الگ تھیں، مگر اب مکہ شہر پھیلتے ہوے منیٰ کی آبادی سے متصل ہو گیا " پھر مقالہ نگار حضرات مثلاً حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب، مولانا عبید اللہ اسعدی، مولانا ارشاد القاسمی صاحب وغیرہ سب نے متفق اللسان ہو کر اس کو دلیل بنایا کہ دونوں کی آبادیوں میں اتصال ہو چکا ہے (ماخوذ از تحقیق سلسلہ نمر ٦، ادارہ غفران راول پنڈی) ۔
الجواب: اس کا جوا ب تو ظاہر ہے کہ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے ۔ ماضی بعید میں تو منیٰ میں آبادی کا ہونا مسلم ہے، لیکن موجود ہ دور میں منیٰ میں سرے سے آبادی ہے ہی نہیں کہ مکہ مکرمہ سے متصل قرار دیا جا سکے، نیز محلہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں مکانات اور گلیاں ہوں، لیکن منیٰ میں ایسا نہیں ۔
(٤) اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ منیٰ میں اگر چہ پورا سال آبادی نہیں رہتی فقط حج کے زمانے میں ہوتی ہے، لیکن سال بھر آباد رہنا کوئی ضروری شرط نہیں
كما قال الآفندي رحمه الله: "بقاؤها مصراً ليس بشرط"
لہذا حج کے زمانے میں اسے مصر قرار دینا چاہیے ۔
الجواب: یہ خیال درست نہیں، علامہ آفندی رحمه الله کے قول
"بقاؤها مصراً ليس بشرط"
کا مطلب یہ ہے کہ مصر بننے کے لیے اس کی مصریت کی بقاء شرط نہیں، عارضی طور پر بھی مصر بن سکتا ہے، لیکن عارضی طور پر مصر اسی وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ پہلے سے قریہ ہو، جنگل اور ویرانہ تو کبھی بھی مصر نہیں بنتا ۔
(۵) ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ دونوں کی بلدیہ ایک ہے ۔ (ندائے شاہی، ص ۵۳، دسمبر ۲۰۰٤) ۔
الجواب: چونکہ منیٰ میں پورا سال کوئی کام نہیں ہوتا لہذا مکہ مکرمہ کی بلدیہ وہاں کام کرتی ہے الگ بلدیہ کی ضرورت نہیں پڑی یہ مکہ مکرمہ کے جزء ہونے کی دلیل نہیں، نیز بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کی اپنی بلدیہ ہے ۔ واللہ اعلم بذلک ۔
(٦) آج کل منیٰ کی حالت پر غور کریں تو منیٰ یورپ کا ایک ترقی یافتہ شہر ظاہر ہوتا ہے، وہاں جدید ائر کنڈیشن خیمے ہیں، دفاتر ہیں نیز دیگر بہت سی سہولیات ہیں، اس لیے اسے جنگل نہیں کہا جا سکتا بلکہ آبادی ہے ۔
الجواب: (۱) یہ مکانات پختہ نہیں، فقہاء پختہ مکانات کی شرط لگاتے ہیں ۔ (۲) خیموں میں کوئی
مستقل رہائش نہیں اختیار
كرتا،
اور آبادی کے لیے موضع لبث و قرار شرط ہے ۔ (۳) عرب شہزادے اس سے بھی بہترین خیمے جنگلوں میں لگاتے ہیں، لیکن ان کو کوئی آبادی نہیں کہتا ۔ (٤) شاہی محل منیٰ میں ہے وہاں خدام اور
محافظ رہتے ہیں مگر آبادی بننے کے لیے ان کی رہائش کا اعتبار نہیں ۔
خلاصہ یہ ہے کہ منیٰ میں نہ مکانات متصل ہیں، نہ وہ جائے قرار ہے، نہ وہاں لوگ عادۃً رہائش اختیار کرتے ہیں، بلکہ شرعاً وہاں رہائش اچھی بھی نہیں ۔
عن عائشة رضي الله عنه ا قالت: قلت يا رسول الله! ألا نبني لك بناء بمنى يظلك؟ فقال رسول الله ﷺ: "لا منى مناخ من سبق". (ترمذي: ۱/۱۷۷، باب ما جاء في أن مني مناخ من سبق وكذا في أبو داود وابن ماجه).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.