جنات سے حمل ٹھہرنے کا حکم:
Question
اگر کسی عورت کو حمل ٹھہرا اس کو پوچھا گیا کہ بچہ کہاں سے آیا وہ کہتی ہے کہ جن سے تو کیا اس کی بات مانی جائے گی؟ کیا جنات سے حمل ٹھہر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جنات کے ساتھ مناکحت جائز نہیں ہے، جس کی تفصیل گزر گئی، البتہ جنات سے حمل ٹھہرنا ممکن ہے، اس کے باوجود عورت کی یہ بات نہیں مانی جائے گی، اس لیے کہ اس دعویٰ سے فساد پھیلنے کا خطرہ ہے ۔
ملاحظہ ہو الاشباہ و النظائر میں ہے:
وبعضهم استدل بما رواه حرب الكرماني في مسائله عن أحمد وإسحاق، قال: حدثنا محمد بن يحيى القطيعي حدثنا بشر بن عمر بن لهيعة عن يونس بن يزيد عن الزهري قال: "نهى رسول الله ﷺ عن نكاح الجن" وهو وإن كان مرسلاً فقد اعتضد بأقوال العلماء. (الأشباه والنظائر: ۳/۹٤، أحكام الجان، إدارة القرآن).
وكرهه الإمام مالك رحمه الله فقال: أخشى أن توجد بنت حاملاً وتسأل عن حملها فتقول: تزوجني جني، وبذلك يكثر الفساد. (قرة العين لعبد الله بن محمد بن الصديق الغماري ص ٦۹، بيروت. ومثله في "الأشباه والنظائر": ۳/۹۵، أحكام الجان، إدارة القرآن).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.