بحالت حمل طلاق دینے کا حکم:
Question
اگر کسی نے اپنی بیوی کو حالتِ حمل میں طلاق دی تو واقع ہوئی یا نہیں؟ اور مکروہ ہو گی یا مباح؟
Answer
طلاق جس حالت میں بھی دی جائے واقع ہو جاتی ہے، البتہ حالت حیض میں بدعت اور نامناسب ہے، اور حالت حمل میں احسن ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی ہندیہ میں ہے:
الأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهرها لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملاً قد استبان حملها. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٤۸، كتاب الطلاق، الباب الاول).
نیز مذکور ہے:
والبدعي من حيث الوقت أن يطلق المدخول بها وهي من ذوات الأقراء في حالة الحيض. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٤۹، كتاب الطلاق، الباب الاول).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: عورت کو حمل کی حالت میں طلاق ہو گی یا نہیں؟
الجواب: جی ہاں! حالت حمل میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
﴿و أولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن﴾
۔ سورۂ طلاق ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/۲۵۷، مبوب و مرتب، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم دیوبند: جلد دوم: ص ٤۹۸، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.