بحالت نشہ وقوعِ طلاق کا حکم:

6 min readFatwa Vol 4 #104Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۷): سکران، مجنون اور مکرَہ کی طلاق کا بیان

Question

اگر کسی نے نشہ کی حالت میں بیوی کو طلاق دی تو طلاق ہو گی یا نہیں؟ اور اگر کسی کو دوا سے نشہ آگیا تو کیا حکم ہے؟

Answer

مذہب احناف کے مطابق حالتِ نشہ کی طلاق زجر و تنبیہ اور بطورِ سزا واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ اس کا نشہ پینا ناجائز طریقہ پر ہو، ہاں اگر کوئی مباح شئ ہو اور اتفاقاً اس سے نشہ پیدا ہو گیا، یا آ کراہ و اضطرار کی وجہ سے نشہ آور چیز استعمال میں آئی ہو تو اس کی طلاق واقع نہ ہو گی ۔
اسی طرح بعض ادویات بھی نشہ آور ہوتی ہیں، لہذا ان چیزوں کے استعمال سے اگر نشہ آ جائے اور اس حالت میں طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہو گی ۔ نیز بعض ایسی چیزیں بھی ہیں کہ شرعاً ان کا کھانا حرام نہیں بلکہ مکروہ ہے، مگر استعمال کی بے اعتدالی کی وجہ سے اس سے بھی کبھی نشہ پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ تمباکو وغیرہ تو اس صورت میں بھی طلاق واقع نہ ہو گی ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

السكران إذا طلق امرأته فإن كان سكره بسبب محظور بأن شرب الخمر أو النبيذ طوعاً حتى سكر وزال عقله فطلاقه واقع عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنه م

لعموم قوله عزّوجلّ: ﴿الطلاق مرتن﴾ إلى قوله سبحانه وتعالى ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره﴾ من غير فصل بين السكران وغيره إلا من خص بدليل، وقوله عليه الصلاة والسلام: "كل طلاق جائز إلا طلاق الصبي والمعتوه" ولأن عقله زال بسبب هو معصية، فينزل قائماً عقوبة عليه وزجراً له عن ارتكاب المعصية

بخلاف ما إذا زال بالدواء، لأنه ما زال بسبب هو معصية. (بدائع الصنائع: ۳/۹۹، شرائط ركن الطلاق، سعيد).
وفي الدر المحتار: سواء كان سكره من الخمر أو الأشربة الأربعة المحرمة أو غيرها من الأشربة الأربعة المتخذة من الحبوب والعسل عند محمد. قال في الفتح: وبقوله يفتي لأن السكر من كل شراب محرم. وفي البحر عن البزازية: المختار في زماننا لزوم الحد ووقوع الطلاق. وما في الخانية من تصحيح عدم الوقوع فهو مبني على قولهما من أن النبيذ حلال، والمفتي به خلافه. وفي النهر عن الجوهرة أن الخلاف مقيد بما إذا شربه للتداوي فلو للهو والطرب فيقع بالإجماع

قوله أو أفيون أو بنج

إن كان للتداوي لم يقع لعدم المعصية، وإن للهو وإدخال الآفة قصداً، فينبغي أن لا يتردد في الوقوع. وفي تصحيح القدوري عن الجواهر: وفي هذا الزمان إذا سكر من البنج والأفيون يقع زجراً، وعليه الفتوي، وتمامه في النهر. قوله (لو زال عقله بالصداع أو بمباح لم يقع) كما إذا سكر من ورق الرمان فإنه لا يقع طلاقه ولا عتاقه. ونقل الإجماع على ذلك صاحب التهذيب، كذا في الهندية. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۳۹، ۲٤۰، مطلب في تعريف السكران وحكمه، سعيد).
(وكذا في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: ۳/۳٤۸، الفصل الثالث في بيان من يقع طلاقه ومن لا يقع طلاقه، رشيدية).
وفي الفتاوى الهندية:
ولو أكره على شرب الخمر أو شرب الخمر لضرورة وسكر وطلق امرأته، اختلفوا فيه، والصحيح أنه كما لا يلزمه الحد لا يقع طلاقه ولا ينفذ تصرفه. كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية: ۳/۳۵۳، فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه)

مزید ملاحظہ ہو: (الفقہ علی المذاہب الأربعۃ: ٤/۲۱۹، شروط الطلاق ۔ و جدید فقہی مسائل: ۳/۲۱۵) ۔
مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
نشہ کی حالت کی طلاق واقع ہو جاتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ نشہ اپنے علم و اختیار سے کیا ہو ۔ اگر کسی نے دھوکہ دے کر یا زبردستی پلا دیا اور اس حالت میں طلاق دی گئی تو وہ طلاق نہیں پڑتی ۔ (کفایت المفتی: ٦/۹۲، حالتِ نشہ میں طلاق دینا، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (خیر الفتاوی: ۵/۲۳۷ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۸/۲۷۳ ۔ و احسن الفتاوی: ۵/۱۸۲) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اسلام میں نشہ کی سخت ممانعت ہے ۔ اس لیے اگر کوئی شخص نشہ استعمال کر لے اور اس حالت میں طلاق دے دے تو گو وہ ہوش و حواس سے محروم ہے پھر بھی اس کی طلاق واقع ہو جائے گی ۔ لیکن اگر نا واقفیت میں یا کسی غیر معمولی مجبوری کی بنا پر کسی شخص نے نشہ آور چیز استعمال کی تو ایسے خصوصی مواقع پر وہ گناہ گار نہیں ہوگا اور ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہ ہو گی، ایسے نشہ کی چند صورتیں ہیں:
(الف) بطور دوا و علاج کے نشہ آور چیز استعمال کر لی گئی ۔
(ب) کوئی شخص بھوک کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا اور اس وقت نشہ آور چیز کے سوا کوئی اور ایسی چیز موجود نہ تھی جسے کھا کر وہ جان بچائے اس لیے اضطرار کی حالت میں اس نے نشہ آور چیز کا استعمال کر لیا ۔
(ج) کسی شخص کو نشہ آور چیز کے استعمال کرنے پر اس طرح مجبور کیا گیا کہ اس کو غالب گمان ہو کہ اگر وہ اس کا استعمال نہیں کرے گا تو اس کو سخت جسمانی مضرت یا کوئی اور ناقابلِ برداشت نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
(د) اس نے کوئی ایسی چیز استعمال کی جس کے نشہ آور ہونے سے واقف نہیں تھا، اتفاق سے وہ نشہ آور شئ نکلی اور نشہ آگیا ۔
ان صورتوں میں اگر وہ طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۳٤، ۱۳۵) ۔
نیز ملاحظہ فرمائیں: (نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، حالتِ نشہ کی طلاق، ص ۹۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.