بحالت غصہ سو طلاق دینے کا حکم:
Question
ایک شخص نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو کہا میں نے تم کو سو طلاقیں دیں، اب وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے غصہ کی حالت میں بلا نیت طلاق یہ الفاظ کہے تھے تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کے یہ الفاظ "میں نے تم کو سو طلاقیں دیں" طلاق کے بارے میں صریح ہیں اور محتاجِ نیت نہیں ہیں، بدون نیت طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا شخص مذکور کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں، اور بقیہ (۹۷) ستانوے کا بار شخص مذکور کی گردن پر رہے گا اس سے توبہ اور استغفار لازم ہے ۔ نیز غصہ کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے بلکہ عام طور پر غصہ کی حالت میں طلاق دی جاتی ہے، پیار و محبت میں اکثر طلاق نہیں دی جاتی ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائناً كان الواقع به أو رجعيا. (الدر المختار: ۳/۳۰٦، باب الصريح، سعيد).
حدیث میں ہے:
عن مجاهد رحمه الله عن ابن عباس رضي الله عنه أنه سئل عن رجل طلق امرأته مائة تطليقة قال: عصيت ربك وبانت منك امرأتك، لم تتق الله فيجعل لك مخرجاً. (السنن الكبرى: ۷/۳۳۱، بيروت).
وعن سعيد بن جبير رحمه الله عن ابن عباس رضي الله عنه في رجل طلق امرأته ألفاً، فقال: أما ثلاث فتحرم عليك امرأتك وبقيتهن عليك وزر، اتخذت آيات الله هزواً. (السنن الكبرى: ۷/۳۳۲، بيروت).
وفي المصنف لعبد الرزاق: عن داود بن عبادة [بن] الصامت رضي الله عنه قال: طلق جدي امرأة له ألف تطليقة، فانطلق أبي إلى رسول الله ﷺ فذكر ذلك له، فقال النبي ﷺ:
أما ثلاث فله أما تسع مائة وسبعة وتسعون فعدوان وظلم إن شاء الله تعالى عذبه وإن شاء غفر له. (مصنف عبد الرزاق: ٦/۳۹۳، المجلس العلمي).
شامی میں ہے:
ويقع طلاق من غضب خلافاً لا بن القيم، وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤٤، مطلب في طلاق المدهوش، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: (فتح القدیر: ٤/۷٤، دار الفکر ۔ و البحر الرائق: ۳/۲۷۵، کوئرہ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۳۳، مبوب و مرتب ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/٤۹، مدلل مکمل ۔ و امداد الاحکام: ۲/٤٤۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.