غصہ کی حالت میں تین طلاق کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #36Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۳): طلاقِ ثلاثہ کا بیان

Question

ایک شوہر نے اپنی بیوی کو طلاقِ مغلظہ دی، کسی بدعتی عالم کے پاس جا کر فتویٰ پوچھا تو اس نے کہا کہ نکاح فسخ نہیں ہوا، کیوں کہ حالتِ غصہ میں طلاق دی، اب اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں بحالتِ غصہ دی ہوئی تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں، اب بدون حلالہ زوج اول کے لیے حلال نہیں، کیوں کہ عام طور پر حالتِ غصہ ہی میں طلاق دی جاتی ہے، پیار و محبت میں نہیں دی جاتی ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے

ويقع طلاق من غضب خلافاً لا بن القيم، وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤٤، مطلب في طلاق المدهوش، سعيد).

الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے:

فاعلم أن بعض العلماء قد قسم الغضب إلى ثلاثة أقسام الأول أن يكون الغضب في أول أمره فلا يغير عقل الغضبان بحيث يقصد ما يقول ويعلمه، ولاريب في أن الغضبان بهذا المعنى يقع طلاقه وتنفذ عباراته باتفاق. (٤/۲۲۷، شروط الطلاق، القاهرة).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
غصہ کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے حنفیہ کا بھی یہی مسلک ہے، بعض متأخرین حنابلہ اس طرف گئے ہیں کہ حالت غضب میں طلاق واقع نہیں ہوتی، اور ان میں سے متقدمین کا قول یہ نہیں بلکہ حنفیہ کے موافق ہے، قال أبو داود: "الغلاق أظنہ فی الغضب" اس سے ان بعض متاخرین حنابلہ نے استدلال کیا ہے کہ حدیث شریف "لاطلاق ولاعتاق في إغلاق" اغلاق کی تفسیر ابو داود نے غضب سے کی ہے، لہذا غصہ کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ۔ اس کا جواب بذل المجہود شرح ابی داود میں اس طرح دیا ہے:
"ورده ابن السيد، فقال: لوكان كذلك لم يقع علي أحد طلاق لأن أحداً لايطلق حتي يغضب"
۔ (
بذل المجهود: ۳/۲۷٦، باب الطلاق على غيض).

حافظ ابن حجر فتح الباری شرح بخاری میں فرماتے ہیں:

قال المطرزي: قولهم إياك والغلق أي الضجر والغضب ورد الفارسي في مجمع الغرائب على من قال الإغلاق الغضب، وغلط في ذلك وقال: إن طلاق الناس غالباً إنما هو في حال الغضب، وقال ابن المرابط: الإغلاق حرج النفس، وليس كل من وقع له فارق عقله، ولو جاز عدم وقوع طلاق الغضبان لكان لكل أحد أن يقول فيماجناه كنت غضباناً، وأراد بذلك الرد على من ذهب إلى أن الطلاق في الغضب لا يقع، وهو مروي عن بعض متاخري الحنابلة ولم يوجد عن أحد من متقدميهم إلا ما أشار إليه أبو داود. وأما قوله في المطالع "الإغلاق الإكراه" وهومن أغلقت الباب، وقيل الغضب، وإليه ذهب أهل العراق، فليس بمعروف عن الحنفية. فتح الباري: ۹/۳۸۹، باب الطلاق في الإغلاق والإكراه. (
فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۰۸، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.