نصرانی عورت کے مشرف باسلام ہونے سے نکاح کا حکم:
Question
اگر نصرانی آدمی کی بیوی مسلمان ہو گئی تو اس کو کیا کرنا چاہیے اور اگر نصرانی مرد مسلمان ہو اور بیوی اب تک نصرانیہ ہے تو نکاح باقی رہے گا یا نہیں؟
Answer
غیر مسلم زوجین میں سے صرف بیوی اسلام لے آئے تو اگر ممکن ہو تو شوہر پر تین بار اسلام پیش کیا جائے گا، اگر شوہر نے بھی اسلام قبول کر لیا تو وہ نکاح قائم رہے گا، اور اگر اس کے بعد بھی شوہر اسلام قبول کرنے سے انکار کر دے یا خاموش رہے اور اگر ممکن ہو تو قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے، لہذا عدت گزار کر عورت کسی مسلمان سے نکاح کر سکتی ہے، اور اگر اسلام پیش کرنا یا قاضی کے ذریعہ تفریق کرانا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت کا تین حیض، یا اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ گزر جانے پر، یا حاملہ ہو تو وضع حمل کے بعد نکاح ختم ہو جائے گا، اور پھر عدت کے بعد اس کے لیے نکاح کرنا جائز ہو جائے گا ۔
ولو أسلم أحد الزوجين عرض الإسلام على الآخر فإن أسلم وإلا فرق بينهما كذا في الكنز، وإن سكت ولم يقل شيئاً فالقاضي يعرض الإسلام عليه مرة بعد أخري حتى يتم الثلاثة احتياطا كذا في الذخيرة
وإذا أسلم أحد الزوجين في دار الحرب ولم يكونا من أهل الكتاب أو كانا والمرأة هي أسلمت فإنه يتوقف انقطاع النكاح بينهما على مضي ثلاث حيض سواء دخل بها أو لم يدخل بها كذا في الكافي، فإن أسلم الآخر قبل ذلك فالنكاح باق ولو كانا مستأمنين فالبينونة إما بعرض الإسلام على الآخر أو بانقضاء ثلاث حيض
. ولو كانت لا تحيض بصغر أو كبر لا تبين إلا بمضي ثلاثة أشهر. (عالمگيري: ۱/۳۳۸، وهكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵۳٤. ۵۳٦).
وإن كانت حاملاً فحتى تضع حملها، ح من القهستاني. (رد المحتار: ۲/۵۳۷).
اور اگر صرف شوہر اسلام لے آئے اور بیوی کتابیہ ہو تو نکاح باقی رہے گا، اور اگر بیوی غیر کتابیہ ہو اور اسلام پیش کرنا ممکن ہو تو اس پر تین بار اسلام پیش کیا جائے گا، اگر وہ اسلام قبول کر لے یا دین کتابی میں داخل ہو جائے تو نکاح باقی رہے گا، ورنہ دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی، اور اگر اسلام پیش کرنا یا تفریق کرنا ممکن نہ ہو تو تین حیض یا تین ماہ یا حاملہ ہو تو ولادت کے بعد نکاح خود بخود ختم ہو جائے گا ۔
لو أسلم زوج الكتابية بقي نكاحهما كذا في الكنز. (عالمكيري: ۱/۳۳۸).
أن زوج الكتابية إذا أسلم يبقى النكاح لجواز التزوج بها ابتداء. (البحر الرائق: ۳/۲۱۱).
إذا أسلم الزوج وهي مجوسية فتهودت أو تنصرت، داما على النكاح كما لو كانت يهودية أو نصرانية من الابتداء كذا في المبسوط. (البحر الرائق: ۳/۲۱۱).
(قوله ولو أسلم زوج الكتابية بقي نكاحهما) فهو مخصوص لكل من المسئلتين صادق بصورتين مع إذا كان الزوج كتابياً أو مجوسياً لأنه يصح النكاح بينهما ابتداء فلأن يبقى أولى ولو تمجست يفرق بينهما لفساد النكاح. (البحر الرائق: ۳/۲۱۳. وهكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۵۳۵). (
مأخوذ از مجموعہ قوانین اسلامی ص ٦۹ ۔ ۷۰، دفعہ ٦٦ ۔ ٦۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.