طالب علم کے لیے وقتی طور پر ضبط تولید کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #450Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

زید ایک طالب علم ہے اور شادی شدہ ہے، فراغت تک وقتی ضبط تولید کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟ اس کا کہنا ہے کہ دورانِ تعلیم بچوں کا ہونا اپنے لیے اور تعلیم کے لیے وہ مضر سمجھتا ہے، نیز یہ بات بھی ہے کہ اس وقت چونکہ کوئی آمدنی نہیں ہے سوائے وہ جو والد کی طرف سے ملتی ہے، کیا ان حالات میں وقتی طور پر ضبط کی کوئی صورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟

Answer

ممکن ہے کہ من جانب اللہ ضبط تولید کی کوئی صورت پیدا ہو جائے اور زید کی تمنا پوری ہو جائے، تاہم اگر زید کی یہ تمنا اللہ تعالی کی طرف سے پوری نہیں ہوئی تو اس نیت سے ضبط تولید درست نہیں کہ بچہ کہاں سے کھائے گا، نیز دورانِ تعلیم شادی کرنا اور بیوی کا گھر پر لانا تعلیم کے لیے مضر نہیں ہے، (جب کہ تجربہ سے مضر ثابت ہوا) تو بے چارہ بچہ بدرجۂ اولیٰ مضر نہ ہوگا ۔
ضبط تولید پر علماء نے کافی تفصیل سے لکھا ہے، مزید مطلوب ہو تو ان رسائل کی طرف رجوع کیا جائے جو اس مسئلہ پر لکھے گئے ہیں، مثلاً: جدید فقہی مسائل، فیملی پلاننگ اور اسلام، از ۹۲ تا ۱٤۷، و احسن الفتاوی: ۸/۳٤۷ ۔ ۳۵۳، ضبط تولید و اسقاط حمل ۔ ضبط ولادت کی عقلی و شرعی حیثیت از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله ۔ و بحث و نظر، ضبط ولادت اسلامی نقطہ نظر سے، زیر نگرانی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.