سامان بھرنے کے خالی بیگ پر زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #459Urdu
Vol. 3زكوة، صوم، حج اور نكاح سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

بیکریوں اور فیکٹریوں میں اناج غلہ وغیرہ بڑی مقدار میں خریدا جاتا ہے، پھر استعمال کے بعد ان کے خالی بیگ فروخت ہوتے ہیں، تو ان خالی بیگ پر زکوٰۃ واجب ہو گی یا نہیں؟ بعض مرتبہ خریدتے وقت آگے بیچنے کی نیت ہوتی ہے ۔ نیز اگر کسی نے نئے بیگ اپنے سامان کی فروخت کے لیے خریدے تو اس پر سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

موجود ہ دور میں خالی بیگ تین قسم پر ہے: (۱) بڑی کمپنیاں بڑی مقدار میں خالی بیگ خریدتی ہیں اور مشتری کو سامان بھرنے کے لیے فروخت کرتی ہیں، یعنی ان کا مقصد تجارت ہے تو اس قسم کے بیگ پر یقیناً سال ختم ہونے پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ (۲) دوسری قسم وہ ہے کہ دکان دار خالی بیگ خریدتے ہیں لیکن ان کا مقصد فروخت کرنا نہیں ہوتا بلکہ مشتری کو سامان بھرنے کے لیے مفت میں دیتے ہیں اور وہ بہت معمولی قسم کے ہوتے ہیں، اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی ۔ (۳) بیکریوں اور بسکٹ وغیرہ کی فیکٹریوں میں خالی تھیلے اور بیگ اگر فروخت ہوتے ہیں تو ان کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ فقہاء کی عبارات ملاحظہ ہو فرمائیے:

قال في البدائع: وظروف أمتعة التجارة لا تكون مال التجارة لأنها لا تباع مع الأمتعة عادة وقالوا: في نخاس الدواب إذا اشتري المقاود والجلال والبراذع أنه إن كان يباع مع الدواب عادة يكون للتجارة لأنها معدة لها وإن كان لا يباع معها

فلا يكون مال التجارة إذا لم ينو التجارة عند شرائها. (بدائع الصنائع: ۲/۱۳، سعيد).
قال في فتح القدير: وقوارير العطارين ولُجُمُ الخيل والحمير المشتراة للتجارة ومقاودها وجلالها إن كان من غرض المشتري بيعها به ففيها الزكاة وإلا فلا. (فتح القدير: ۲/۱٦٤، ط: دار الفكر). (وكذا في فتاوى الشامي: ۲/۲٦۵، سعيد، والبحر الرائق: ۲/۲۲۲، دار المعرفة، والعناية شرح الهداية بهامش فتح القدير: ۲/۱٦٤، دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.