عمارتی کمپنی کے شیرز پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
ایک شخص کے پاس عمارتی کمپنی کا ایک شیرز ہے تو اس کی آمدنی پر زکوٰۃ ادا کرے یا شیرز کی قیمت پر یا دونوں پر؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی تجارت کرتی ہے تو شیرز کی اصل رقم اور منافع دونوں پر زکوٰۃ لازم ہے اور اگر کمپنی تجارت نہیں کرتی صرف کرایہ وصول کیا جاتا ہے تو اس کے شیرز پر زکوٰۃ ہے یعنی منافع پر زکوٰۃ لازم ہے اصل رقم پر زکوٰۃ نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
کمپنی تجارت کرتی ہے تو زکوٰۃ جمع شدہ رقم پر ہو گی اور اگر کرایہ وصول کرنے کی کمپنی ہے تو جمع شدہ مال پر زکوٰۃ نہیں، بلکہ حاصل شدہ منافع پر ہو گی ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲۵۷، شیرز پر زکوٰۃ، دار الاشاعت) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
شیرز پر زکوٰۃ ہے اگر کمپنی تجارت کرتی ہے، مثلا کپڑا، لوہا، سامان مشتری وغیرہ فروخت کرتی ہے، سیمنٹ بیچتی ہے، بجلی سپلائی کرتی ہے ( جیسے الیکٹرک کمپنی) تو شیرز کی اصل رقم (شیرز کی قیمت) اور شیرز کے منافع دونوں پر زکوٰۃ ہے، اور اگر کمپنی تجارت نہیں کرتی صرف کرایہ وصول کیا جاتا ہے جیسے ٹرام کمپنی ریلوے کمپنی تو اس کے شیرز کے منافع پر زکوٰۃ ہے اصل رقم پر زکوٰۃ نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۱٤) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
کارخانہ کی زمین و تعمیرات و مشین خود فروخت کرنے کے لئے نہیں، بلکہ آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں تو ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ان سے حاصل شدہ آمدنی حسبِ ضابطۂ شرعیہ نقود کی طرح زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٤۲۷، جامعہ فاروقیہ) ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية وليست بنامية وعلى هذا كتب العلم لا هلها وآلات المحترفين لما قلنا. (الهداية: ۱/۱۸٦، كتاب الزكاة).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.