پگڑی کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #63Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

کرایہ دار مالکِ مکان کو یک مشت پیشگی رقم ادا کرتا ہے سال گزرنے پر اس رقم کی زکوٰۃ کس کے ذمہ ہو گی؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں مالکِ مکان کے ذمہ زکوٰۃ لازم ہو گی ۔
ملاحظہ ہو ایضاح النوادر میں ہے:
کرایہ دار پیشگی یک مشت جو رقم مالکِ مکان اور مالکِ دوکان کو ادا کرتا ہے مالکِ مکان اس کا مالک ہو جاتا ہے اس کی زکوٰۃ بھی مالکِ مکان ہی پر لازم ہوا کرتی ہے، کرایہ دار پر اس کی زکوٰۃ لازم نہیں ہے، اس لئے کہ اس رقم پر کرایہ دار کی ملکیتِ تامہ حاصل نہیں ہے ۔
إذا عجل الأجرة لا يملك الاسترداد. شامي: ٦/۱۰. (
ایضاح النوادر: حصۂ دوم ص ۱۰) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
پیشگی رقم مالکِ مکان کی ملکیت میں آ جاتی ہے اس لئے مالکِ مکان ہی کو اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی ۔ چنانچہ ابن ہمام رحمه الله لکھتے ہیں:
و أما زكاة الأجرة المعجلة عن سنين في الإجارة الطويلة التي يفعلها بعض الناس عقوداً ويشترطون الخيار ثلاثة أيام في رأس كل شهر فتجب علي الآجر لأنه ملكها بالقبض. (فتح القدير: ۲/۱۲۱).

پس پیشگی دیے گئے کرایہ کی زکوٰۃ مالکِ مکان پر واجب ہو گی ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۱۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل سوم
اموالِ تجارت اور کرایہ داری پر زکوٰۃ کے احکام

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.