حق سکنی (پگڑی) کی شرعی حیثیت:

13 min readFatwa Vol 5 #130Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۷): بیع الحقوق کا بیان

Question

صاحبِ ہدایہ رحمه الله نے بیع حق المرور کو جائز قرار دیا ہے اور بیع حق السکنی یا حق سکنی کے عوض لینے کو ہدایہ کے حاشیہ میں ناجائز کہا ہے، جب کہ آج کل بیع حق السکنی عام ہے، تو کیا یہ جائز ہے یا ناجائز ؟

Answer

پگڑی بھی حقوق و منافع کی خرید و فروخت کی ایک قسم ہے، اس کا رواج اب تو شہر سے گاؤں تک ہو چکا ہے، خصوصیت سے بڑے اور مرکزی شہروں میں اس کا چلن خوب ہے، بعض علاقوں میں اسے "سلامی" بھی کہتے ہیں، عربی زبان میں اس کے لیے "جلسۃ" اور زیادہ تر "خلو" کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔
کسی مکان یا دوکان کو جب کرایہ پر دیا جاتا ہے تو مالک مکان و دکان کرایہ دار سے ماہانہ اجرت کے سوا کچھ رقم یک مشت حاصل کرتا ہے، اس رقم کی ادائیگی کے بعد کرایہ دار اس بات کا حقدار ہو جاتا ہے کہ وہ تا حیات اس میں رہے ۔
کرایہ دار کے لیے بھی ایک دشواری تھی کہ اچانک مکان یا دوکان کو واپس کرنا بعض اوقات اس کے لیے باعث مشقت ہو سکتا تھا، مثلاً کسی نے کرایہ کی عمارت میں دکان لگائی کاروبار جم گیا، اب اگر مالکِ دوکان اسے خالی کرنے کا مطالبہ کرے تو یہ صورتِ حال اس کے لیے بڑی آزمائش بن جاتی ہے اور اس معاشی نقصان کی تلافی شاید ممکن نہ ہو ۔
قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمه الله فرماتے ہیں:
اگر عرف کی خاموش زبان کو الفاظ کا جامہ پہنایا جائے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جس مالک نے کرایہ پر لگاتے وقت پگڑی لی، اس نے گویا اپنا حق مالکانہ بر قرار رکھتے ہوے حق سکونت فروخت کر دیا، اور یہ حق کرایہ دار کا ایسا حق ہے جواس سے مالک مکان چھین نہیں سکتا، کرایہ دار کے وارثوں میں بھی یہ حق منتقل ہوگا، اور کرایہ دار اس حق کو فروخت بھی کر سکتا ہے ۔ (مجلہ فقہ اسلامی:
۱
/
۸۳
، اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا) ۔
علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله کا نقطہ نظر بھی جواز کی طرف ہے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ سلطان غوری نے ’غوریہ" میں "جملون" کی دوکانوں کی خود تعمیر کی اور پھر تجار کو حق خلو کے ساتھ سکونت عطا کی اور ہر دوکان کے لیے ایک مقدار مقرر کر دی جس کو سلطان نے ان سے وصول کیا اور وقف کی دستاویز میں اس کو لکھ دیا ۔
ملاحظہ ہو "الاشباہ و النظائر" میں ہے:

والحاصل أن المذهب عدم اعتبار العرف الخاص، ولكن أفتي كثير من المشايخ باعتباره، فأقول على اعتباره: ينبغي أن يفتي بأن ما يقع في بعض أسواق القاهرة من خلو الحوانيت لا زم، ويصير الخلو في الحانوت حقاً له، فلا يملك صاحب الحانوت إخراجه منها، ولا إجارتها لغيره، ولو كانت وقفاً وقد وقع في حوانيت الجملون بالغورية أن السلطان الغوري لما بناها أسكنها للتجار بالخلو، وجعل لكل حانوت قدراً أخذه منهم، وكتب ذلك بمكتوب الوقف. (الأشباه والنظائر: ۱/۲۸٦. ۲۹۱، تحت القاعدة: العادة محكمة، إدارة القرآن. وكذا في فتاوى الشامي: ٤/۵۲۱، مطلب في خلو الحوانيت، سعيد).
وفي رد المحتار: قال البدر القرافي من المالكية: إنه لم يقع في كلام الفقهاء التعرض لهذه المسألة، وإنما فيها فتيا للعلامة ناصر الدين اللقاني المالكي بناها على العرف وخرجها عليه وهو من أهل الترجيح فيعتبر تخريجه، وإن نوزع فيه وقد انتشرت فتياه في المشارق والمغارب وتلقاها علماء عصره بالقبول

وفي الخيرية (للشيخ الرملي الحنفي ما يفيد أن الخلاف في هذه المسألة معتبر يعني خلاف الذي أفتي به من المالكية وهو الشيخ ناصر الدين اللقاني ومن تابعه) قال: ليقع اليقين بارتفاع الخلاف بالحكم حيث استوفي شرائطه من مالكي يراه أو غيره صح ولزم وارتفع الخلاف خصوصاً فيما للناس إليه ضرورة لا سيما في المدن المشهورة كمصر ومدينة الملك (إستانبول) فإنهم يتعاطونه ولهم فيه نفع كلي ويضر بهم نقضه وإعدامه

ألا ترى ما فعله الغوري كما مر

وممن أفتي بلزوم الخلو الذي يكون بمقابلة دراهم يدفعها للمتولي أو المالك العلامة عبد الرحمن آفندي العمادي صاحب هدية ابن العماد، وقال فلا يملك صاحب الحانوت إخراجه ولا إجارتها لغيره مالم يدفع له المبلغ المرقوم، فيفتي بجواز ذلك للضرورة قياساً على بيع الوفاء الذي تعارفه المتأخرون احتيالا على الربا. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۱، ۱۲۲، ۱۲۳، ملخصاً، سعيد).

چند شبہات اور ان کے جوابات:
(۱) بعض فقہاء نے ناجائز قرار دیا ہے، اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یہ مال نہیں ہے اور غیر مال یعنی حقوق کا عوض لینا جائز نہیں ہے، نیز اس میں منفعت کا حصول بھی ممکن نہیں ہے، اس وجہ سے ناجائز ہے ۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ مال ہونے نہ ہونے میں عرف و تعامل کا بڑا دخل ہے، عرف ہی کی بنا پر شے کو تقوم حاصل ہوتا ہے اور منتفع بہ بنتی ہے، جس کی نظائر کتب فقہ کثیر تعداد میں موجود ہیں، لہذا فی زماننا حقوق کو قیمتی سرمایہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، اور اس کے عوض مال لینے کا عام رواج ہے، اس بنا پر اس کو مال قرار دیتے ہوے ان کے مقابلہ میں عوض لینا یا خرید و فروخت کرنا جائز ہوگا ۔
شرح مجلہ میں مرقوم ہے:

إن البيع مبادلة المال بالمال، وليست الحقوق المجردة مالاً متقوماً حتى يصح بيعها، وإنما هو نزول عن ذلك الحق الثابت له للغير بمال معلوم، أفتى بعض المتأخرين من العلماء بجوازه، فمنهم من استند في جوازه إلى أنه قد تعورف ذلك في بعض البلدان، والعرف الخاص قد اعتبره كثير من العلماء، ومنهم من استند في ذلك إلى إلحاقه بنظائره المنصوص على جواز أخذ البدل فيها كحق القصاص وحق النكاح وحق الرق فإنه قد جاز أخذ البدل فيها مع أنهما حقوق فألحق بها النزول عن الوظائف. (شرح المجلة: ۲/۱۲۰، تتمة).
وفي العرف والعادة في رأي الفقهاء: والذي يشهد له إطلاق أدلة الشرع أن المنافع قسم من المال، ثم ذكر بعد أسطر:
والحاصل أن كل مالا ينتفع به فليس بمال، أما ما يجري فيه البذل والمنع وينتفع به ولو بحسب المآل فإنه يصح بيعه متى قومه الشرع وأباح الانتفاع به، ولهذا جوزوا بيع النحل ودود القز والعلق مع أنها من الهوام للانتفاع بها

ومن هذا يتبين أن مقايس المالية تعارف الناس أن هذا الشيء مرغوب فيه ومنتفع به أو عدم تعارفهم، ذلك ولاريب أن هذا أمر يتجدد على مر العصور واختلاف الأمكنة، فكثير من الأشياء لم تكن له في القديم فائدة فكان محقراً بين الناس

ثم تموله الناس وقابلوه بالأثمان، وكثيراً ما نرى الشيء في مكان تافهاً لا ينتفع به ولا قيمة له وفي مكان آخر من العزة والنفاسة بمقدار، ثم أن العرف العام والخاص في تعريف المالية سواء ولهذا قال البخاري في كشف الأسرار: وتثبت المالية بتمول الناس كافة أو بتمويله البعض، وهذا لأن العرف المثبت للمالية من العرف الذي يرجع إليه في تطبيق الأحكام الكلية. (العرف والعادة، للأستاذ أحمد أبو سنة، ص ۱۸۰، ۱۸۱).

(۲) شفیع حق شفعہ سے دستبرداری کا عوض نہیں لے سکتا، اسی طرح پگڑی کا حکم ہونا چاہیے ہونا چاہیے؟
الجواب: پگڑی کے مسئلہ کو حق شفعہ پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ حقوق دو قسم کے ہوتے ہیں، بعض وہ ہیں جو صاحب حق کو ضرر و نقصان سے بچانے کے لیے دیے جاتے ہیں، حق شفعہ اس قبیل سے ہے، ایسے حقوق کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ ان سے دستبرداری کا عوض لینا درست نہیں ہے، اور بعض حقوق وہ ہیں جو اصحاب حقوق کو بر و صلہ کے طور پر فراہم کیے جاتے ہیں، ان کا عوض لیا جا سکتا ہے، جیسے حق نکاح کے عوض بدل خلع، اور بدل خلو (پگڑی) بھی اسی قبیل سے ہے ۔ (اس کی مزید تفصیل آئندہ مسئلہ میں ذکر کی جائے گی، ان شاء اللہ) ۔
(۳) بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ بدل خلو اپنی حقیقت کے اعتبار سے رشوت ہے، جس کا حرام ہونا ظاہر ہے ۔
الجواب: لیکن غور کیا جائے تو اس کو رشوت قرار دینا محل نظر معلوم ہوتا ہے ؛کیونکہ رشوت ایسی رقم ہے جو کسی حق کے مقابلہ میں نہ ہو، اور یہاں پگڑی کی رقم خلو کے عوض میں لی جاتی ہے، اس لیے یہ ناحق وصول کی جانے والی رقم نہیں ہے ۔
علامہ شامی رحمه الله تفصیلی کلام کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

وهذا كلام وجيه لا يخفي على نبيه وبه اندفع ما ذكره بعض محشي الأشباه من أن المال الذي يأخذه النازل عن الوظيفة رشوة، وهي حرام بالنص، والعرف لا يعارض النص وجه الدفع ما علمت من أنه صلح عن حق كما في نظائره والرشوة لا تكون بحق. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۰، سعيد).

اس سلسلہ میں ایک نظیر سیدنا حضرت حسین
رضي الله عنه
کا عمل بھی ہے، کہ انہوں نے اپنے جائز حق خلافت سے حضرت معاویہ رضي الله عنه کے حق میں دستبرداری کا عوض خصوصی وظیفہ کی شکل میں لیا تھا ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

واستدل بعضهم للجواز بنزول سيدنا الحسن بن سيدنا علي رضي الله تعالى عنهما عن الخلافة لمعاوية رضي الله تعالى عنه على عوض، وهو ظاهر أيضاً وهذا أولى من عدم الجواز. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۰، سعيد).

مذکورہ بالا عبارات کی بنا پر اس کو رشوت کہنا درست نہیں ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی الشامی: ٤/۵۱۹، ۵۲۰، سعید ۔ و حقوق اور ان کی خرید و فروخت، ص ۱۹٤ ۔ ۲۰۳) ۔
(٤) بعض حضرات یہ اشکال کرتے ہیں کہ جب یک مشت رقم حاصل کر لی اور یہ رقم حق سکونت و حق انتفاع کے عوض ہے تو پھر ماہانہ کرایہ کس چیز کا وصول کیا جاتا ہے، اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: مالکِ دکان بحیثیت مالک ہونے کہ اپنی دکان کبھی بھی واپس لے سکتا ہے، لیکن یک مشت رقم حاصل کر لینے کی وجہ سے واپس لینے کا حق دائماً یا موقتاً ختم ہو گیا، پھر چونکہ زمین اور دکان اس کی ملکیت میں ہے اس وجہ سے اپنی ملکیت سے انتفاع کا کرایہ حاصل کرتا ہے، لہذا اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
اگر کوئی مکان یا دوکان کرایہ پر دیا جائے اور مالکِ مکان مروجہ پگڑی کے نام پر اصل ماہوار کرایہ کے علاوہ بھی رقم کرایہ دار سے وصول کرے تو سمجھا جائے گا کہ مالکِ مکان نے بحیثیت مالک اپنے مکان کو کرایہ دار سے واپس لینے کے حق سے دست برداری کا عوض وصول کر لیا ہے، یہ رقم اس کے لیے اس حق کے عوض ہونے کی بنیاد پر جائز ہو گی، آئندہ اگر مالکِ مکان کرایہ دار سے مکان واپس لینا چاہے تو کرایہ دار کو اس کا حق ہوگا کہ وہ مکان خالی کرنے کا عوض جس پر ہر دو فریق راضی ہو جائیں مالک مکان سے وصول کرے اور اس صورت میں کرایہ دار دوسرے کرایہ دار کے حق میں باہمی طے شدہ رقم کے عوض اپنے اس حق سے جواس نے اصل مالک سے عوض دے کر حاصل کیا تھا دست بردار ہو سکتا ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۱۵۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.