پگڑی کی دکان بطورِ رہن رکھنے کا حکم:
Question
زید کے پاس پگڑی کی دکان ہے زید نے اس دکان کی دو لاکھ روپے پگڑی کی رقم ادا کر کے دکان حاصل کر لی ہے، اب زید کو اپنی تجارت کے سلسلہ میں بڑی رقم کی ضرورت ہے جس کے لیے رہن درکار ہے، کیا زید پگڑی والی دکان بطورِ رہن رکھ سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
اگر زید کے پاس پگڑی والی دکان ہمیشہ کے لیے ہو تو یہ اپنی ملکیت کی طرح ہے جس میں کسی اور کو دخل نہیں، لہذا اس دکان کو بطورِ رہن رکھ سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو مجلہ فقہ اسلامی مرتب قاضی مجاہد الاسلام صاحب میں ہے:
اور اس علاقہ کا عرف یہ ہے کہ اس پگڑی کے لین دین کی وجہ سے اصل مالک دکان یا مکان سے بے دخل ہو جاتا ہے، اس کے سارے مالکانہ اختیار سلب ہو جاتے ہوں اور کرایہ دار کو حاصل ہو جاتے ہوں تو یہ بیع کے حکم ہے، اور پگڑی کی رقم بمنزلہ ثمن کے اور دکان و عمارت بمنزلہ مبیع کے ہے، اور کرایہ اس زمین کا ہوتا ہے جس پر دکان و عمارت قائم ہے، گویا زمین مالک کی ہے اور عمارت کرایہ دار کی ۔ واللہ اعلم ۔ (مجلہ فقہ اسلامی، ص ۱۴۲، اسلامک فقہ اکیڈمی) ۔
مجلہ فقہ اکیڈمی کی عبارت سے معلوم ہوا کہ پگڑی والا مکان یا دکان کرایہ دار کے قبضہ و ملک میں ہے، لہذا اس کو بطورِ رہن رکھنے کی گنجائش ہو گی ۔
(ہاں نفس پگڑی کا لین دین جائز ہے یا نہیں؟ یہ الگ مسئلہ ہے اس میں علماء کی آراء مختلف ہیں، اس مسئلہ کی تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ پنجم) ۔
نیز کسی چیز کو بطورِ رہن رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مرتہن اس شیٔ پر مکمل قبضہ کر سکتا ہو اور محبوس رکھ سکتا ہو جب تک راہن دین ادا نہ کر دے ۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
ولنا أن موجبه ثبوت يد الاستيفاء واستحقاق الحبس الدائم لتحصيل مقصوده وهو الاستيثاق من الوجه الذي بينا ذلك لا يحصل إلا بثبوت اليد عليه ولهذا شرط في النص أن يكون مقبوضاً. (تبيين الحقائق: ٦/٦۹، ط: إمدادية).
وفي حاشية الشيخ الشلبي: قوله أن موجبه ثبوت يد الاستيفاء) والمراد منه اختصاص المرتهن بالرهن حبساً إلى أن يقضي الراهن دينه. (حاشية الشيخ شهاب الدين احمد الشلبي: ٦/٦۹، ط: إمدادية).
ہدایہ میں ہے:
والثاني: أن موجب الرهن هو الحبس الدائم، لأنه لم يشرع إلا مقبوضاً بالنص أو بالنظر إلى المقصود منه، وهو الاستيثاق من الوجه الذي بيناه، وكل ذلك يتعلق بالدوام، ولا يفضي إليه إلا استحقاق الحبس. (الهداية: ٤/۵۲٤، والفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/٤٦۳، باب ما يجوز ارتهانه ومالا يجوز).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.