ناجائز اموال کو بطورِ رہن رکھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #7Urdu
Vol. 6گروی رکھنے کے احکام کا بیان

Question

اگر بینک نے سہام بطورِ رہن لیے اور یہ سہام ناجائز شرکت کے سہام ہوں تو درجِ ذیل سولات کے جوابات مطلوب ہیں:
(۱) کیا البرکہ بینک ایسے ناجائز سہام بطورِ رہن رکھ سکتا ہے یا نہیں؟
(۲) اگر مدیون نے قرض ادا نہیں کیا تو کیا البرکہ بینک یہ ناجائز سہام بیچ سکتا ہے؟
(۳) جو ربح اس ناجائز سہام سے حاصل ہوا، کیا مرتہن کے لیے بھی ناجائز ہے؟ بینوا و لکم الاجر الجزیل ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ جو سہام بالکل ناجائز ہوں وہ واجب التصدق ہیں ان کو بطورِ رہن رکھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا راہن اور مرتہن دونوں کے لیے درست نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ مجلہ میں ہے:

المادة: ۷۰۹ ــ يشترط أن يكون المرهون صالحاً للبيع فيلزم أن يكون موجوداً مالاً متقوماً مقدور التسليم في وقت الرهن. فلا يجوز رهن ما ليس موجوداً وقت العقد

ولا رهن الميتة والدم، لانعدام ماليتهما، ولا رهن صيد الحرم والإحرام،

ولا رهن الخمر والخنزير من مسلم سواء كان العاقدان مسلمين أو أحدهما مسلماً، لانعدام مالية الخمر والخنزير في حق المسلم. (شرح المجلة: ۳/۱٤۲، لمحمد خالد الأتاسي).

خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ جو اشیاء مسلمان کے حق میں مالِ متقوم اور قابل انتفاع نہیں ہیں ان اشیاء کو بطورِ رہن رکھنا بھی جائز نہیں ہے ۔ ناجائز اموال، سودی اموال سب مسلمان کے حق میں قابل انتفاع نہیں ہیں بلکہ واجب التصدق ہیں، لہذا ان کو بطورِ رہن رکھنے کی گنجائش نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.