حقِ پٹہ دوامی کا شرعی ورثاء میں منتقل ہونے کا حکم:
Question
دائمی کرایہ پر لی ہوئی زمین جسے لیز، یا پٹہ کہتے ہیں۔ کیا اس میں وراثت جاری ہو گی یا نہیں؟ ہمارے صوبہ گجرات ہندوستان میں لیز یا پٹہ پر جو زمینیں حکومت سے لی جاتی ہیں اس کا باضابطہ پرمننٹ لیز ایگریمنٹ (permanent lease agreement) ہوتا ہے جس میں حکومت دائمی کرایہ پر زمین کرایہ دار کو دینے کا اقرار کرتی ہے، کرایہ پر لینے والا تمام ریونیو ریکارڈ (Revenue records) میں کرایہ دار ہی کی حیثیت سے درج ہوتا ہے، اور حکومت ہی اس کی مالک رہتی ہے اور سمجھی جاتی ہے، اور کرایہ دار کو اس زمیں پر تمام تصرفات کا حق دیا جاتا ہے، مثلاً کسی اور شخص کو کرایہ دینا، مکان بنا کر کرایہ پر دینا وغیرہ، لیکن کرایہ دار یہ زمین کسی کو بیچ نہیں سکتا، یعنی اس زمین کا سیل ایگریمنٹ (sale agreement) کسی بھی دفتر میں رجسٹر نہیں ہو سکتا۔
ہاں حکومت کرایہ سے یہ زمین کبھی واپس نہیں لیتی اور نہ کسی قسم کے تصرفات سے روکتی ہے جب تک وہ معاہدہ کے تحت رہے۔ حکومت کی طرف سے سالانہ کچھ رقم بطورِ کرایہ متعین ہوتی ہے جو کرایہ دار کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ زمین حکومت کی ملک ہے یا کرایہ دار اس کا مالک سمجھا جائے گا؟ کرایہ دار کے انتقال کے بعد اس کے تمام ورثاء حقدار ہوں گے یا فقط وہ شخص جس کو حکومت منتخب کر کے قبضہ دے دے؟ بینوا توجروا۔
Answer
حامداً ومصلياً ومسلماً:
بصورتِ مسئولہ پٹہ دوامی کا حق یہ ایک ایسا حق ہے کہ کرایہ دار کو تا دوام حاصل ہے بایں وجہ یہ حق کرایہ دار کے انتقال کے بعد اس کے شرعی ورثاء میں منتقل ہوگا، البتہ چونکہ اس پر ملکیت نہیں ہے لہذا اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، ملکیت تو اصل مالک ہی کی رہے گی، ورثاء کو بھی فقط استعمال یا کرایہ پر دینے یا عاریۃً دینے کا حق حاصل ہے بطورِ ملکیت یہ حق منتقل نہیں ہوگا۔ نیز یہ حق تمام شرعی ورثاء کی طرف منتقل ہوگا۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله پگڑی کے بارے میں فرماتے ہیں:
نعم يفتي به فيما دعت إليه الحاجة وجرت به في المدة المديدة العادة وتعارفه الأعيان بلا نكير كالخلو المتعارف في الحوانيت
قلت: ورأيت في فتاوى الكازروني عن العلامة اللقاني أنه لو مات صاحب الخلو يوفي منه ديونه ويورث عنه وينتقل لبيت المال عند فقد الوارث. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۱، مطلب في خلو الحوانيت، سعيد).
شریعتِ مطہرہ میں بعض حقوق ایسے ہیں جن میں میراث جاری ہوتی ہے اور وہ تمام ورثاء میں حسبِ سہامِ شرعی تقسیم ہوتے ہیں۔ مثلاً حق قصاص اور حق دیت یہ تمام ورثاء میں منتقل ہوتے ہیں۔ ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں تحریر فرماتے ہیں:
ولأن القصاص حق الميت بدليل أنه لو عفا عن الجارح صح وانقلب مالاً تقضي منه ديونه وتنفذ وصاياه ويورث عنه. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۲٦/۱۷۸).
چنانچہ کرایہ کا حق بھی ان حقوق کی طرح ہے جس میں میراث بھی جاری ہو گی اور تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ رحمه الله فرماتے ہیں:
وأصل هذا أن القصاص حق جميع الورثة وكذا الدية
ولنا أنه عليه الصلاة والسلام أمر بتوريث امرأة أشيم الضبابي من عقل زوجها أشيم ولأنه حق يجري فيه الإرث. (الهداية: ٤/۵۷۲، باب القصاص فيما دون النفس).
علامہ زیلعی رحمه الله مزید وضاحت کرتے ہوے فرماتے ہیں:
ولنا قوله عليه الصلاة والسلام: من ترك مالاً أو حقاً فلورثته ومن ترك كلاً فعلي والقصاص حقه فيكون لجميعهم كالمال وأمر عليه الصلاة والسلام بتوريث امرأة أشيم الضبابي من دية زوجها أشيم ولأن القصاص حق يجري فيه الإرث حتى أن من قتل وله ابنان فمات أحدهما عن ابن كان القصاص بين الصلبي وبين ابن الابن فثبت لسائر الورثة والزوجية تبقي بعد الموت حكماً في حق الإرث
وكان علي رضي الله عنه يقسم الدية على من أحرز الميراث والدية حكمها حكم سائر الأموال
وبهامشه قوله: والورثة كلهم في ذلك سواء، قال الإتقاني: والأصل في ذلك أن القصاص يستحقه من يستحق ماله على فرائض الله تعالى الذكر والأنثى في ذلك سواء والزوج والزوجة في ذلك سواء نص عليه الكرخي رحمه الله في مختصره
(تبيين الحقائق مع الحاشية: ٦/ ۱۱٤، ط: إمدادية، ملتان).
مذکورہ بالا فقہی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ قصاص اور دیت یہ حقوق ورثاء میں منتقل ہوتے ہیں اور تمام ورثاء ان میں شریک ہیں۔ حق وصیت اور حق شفعہ کے بارے میں ملاحظہ کیجیے:
قال في الهداية: وإن مات المشتري لم تبطل أي الشفعة لأن المستحق باق ولم يتغير سبب حقه. (الهداية: ٤/۳۲۱).
مطلب یہ ہے کہ اگر مشتری نے زمین خریدی اور مشتری مر گیا تو حق شفعہ اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو گیا۔
صاحبِ ہدایہ حق وصیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
قال: إلا في مسألة واحدة وهي أن يموت الموصي ثم يموت الموصي له قبل القبول فيدخل الموصي به في ملك ورثته استحساناً. (الهداية: ٤/۵۱۵).
یعنی اگر زید نے عمرو کے لیے اپنی جائیداد کے ثلث کی وصیت کی اور زید کی وفات کے بعد عمرو کا بھی انتقال ہو گیا تو حق وصیت عمرو کے ورثہ کی طرف منتقل ہو گیا۔
حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمه الله پگڑی کے بارے میں فرماتے ہیں:
اگر عرف کی خاموش زبان کو الفاظ کا جامہ پہنایا جائے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جس مالک نے کرایہ پر لگاتے وقت پگڑی لی، اس نے گویا اپنا حق مالکانہ برقرار رکھتے ہوئے حق سکونت فروخت کر دیا، اور یہ حق کرایہ دار کا ایسا حق ہے جو اس سے مالک مکان چھین نہیں سکتا، کرایہ دار کے وارثوں میں بھی یہ حق منتقل ہوگا ۔ (مجلہ فقہ اسلامی:
۱
/
۸۳
) ۔
جدید معاشی نظام میں مرقوم ہے:
پٹہ دوامی میں جائیداد پر جو دائمی حق کرایہ دار کو ملتا ہے اور اس کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو جاتا ہے وہ ملکیت کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ ملکیت تو در حقیقت اصل مالک کی ہی رہتی ہے، بلکہ اس زمین یا جائیداد کو استعمال کرنے کا حق پٹہ دوامی میں کرایہ دار کو ملتا ہے، اس کے انتقال کے بعد یہی حق ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے چونکہ پٹہ دوامی میں ملکیت نہیں ہوتی بلکہ حق ہوتا ہے ۔ (جدید معاشی نظام میں اسلامی قانونِ اجارہ، ص
۳۹۳
) ۔
مذکورہ بالا عبارات کی روشنی میں روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ پٹہ دوامی یہ ایک دوامی حق ہے اور ورثاء میں منتقل ہو گا دیگر حقوق کی طرح اور ملکیت تو اصل مالک ہی کی باقی رہے گی البتہ حق کرایہ یا حق سکونت منتقل ہوگا، نیز تمام ورثاء میں منتقل ہوگا بیٹے کی تخصیص کے بغیر ۔
تنبیہ: علامہ شامی رحمه الله کی ایک عبارت (جو مجموعۃ رسائل ابن عابدین:
۲
/
۱۵۲
پر مرقوم ہے) اور مفتی محمد شفیع صاحب کے ایک قول (جو جواہر الفقہ:
۵
/
۲۰
پر درج ہے) سے معلوم ہوتا ہے کہ سکونت دوامی کا حق صرف بیٹے کو ہے اور اگر وہ نہ ہو تو بیٹی کو منتقل ہوگا ہمارے خیال میں یہ جزئیہ سابقہ نقل شدہ عبارات کی وجہ سے مرجوح ہے کیوں کہ دوسرے فقہاء اور خود علامہ شامی رحمه الله کی دوسری عبارت (جو ما قبل میں مذکور ہوئی) میں اس کو وراثت قرار دیا ہے اور وراثت میں سب وارثین کا حق ہوتا ہے ۔
اور آج کل حق دوامی قیمتی مال سمجھا جاتا ہے اس سے ایک وارث کو مالا مال کرنا اور بقیہ کو محروم کرنا شریعت کے مزاج کے خلاف ہے ۔
هذا ما ظهر لنا من أقوال الفقهية والله تعالى أعلم بالصواب وعلمه أتم وأحكم.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.