حکومت زمینیں ضبط کرنے کے بعد اس کا بدل دے تو اس میں میراث کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #316Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضبابِ دوم: میراث سے متعلق احکام کا بیان

Question

پچھلی حکومت کے ایک قانون کے تحت لوگوں کی کچھ زمینیں اور کچھ عمارتیں ضبط کر لی گئی تھیں، اب نئی حکومت اس کی تلافی کر رہی ہے، لیکن اصل مالکین موجود نہیں ہیں، ان کے خاندان والوں کو یہ رقوم دی جا رہی ہیں تو شرعی نقطہ نظر سے یہ رقوم یا جائیداد کس طور پر تقسیم کی جائے گی؟ کیا وراثت کے احکام جاری ہوں گے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ چونکہ موجود ہ حکومت یہ مال میت کا حق سمجھ کر دے رہی ہے، لہذا ان تمام وارثوں کو ملے گا جو اس کی وفات کے وقت زندہ تھے، موجود ہ حکومت کے نزدیک سابقہ حکومت نے مرحوم پر ظلم کیا تھا جس کی تلافی کی جا رہی ہے، جیسے میت کا پینشن ۱۵/۲۰ سال کے بعد مل جائے تو اس کے وہ تمام ورثہ اس میں شریک ہوں گے جواس کی وفات کے وقت زندہ تھے۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:

لأن أحد الورثة ينتصب خصماً عن الباقين فيما يستحق له وعليه "أي الميت وعلى الميت" ديناً كان أو عيناً لأن المقضي له وعليه هو الميت في الحقيقة وواحد من الورثة يصلح خليفة عنه في ذلك. (الهداية: ۳/۱۵۰).

فتاوی الشامی میں ہے:

وشروطه ثلاثة:

وجود وارثه عند موته حياً حقيقة أو تقديراً كالحمل والعلم بجهة إرثه. (فتاوى الشامي: ٦/۷۵۸، سعيد).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ترکہ پانے کی تین شرطیں ہیں: (۱) مورث کی موت کا یقین یا ظن غالب ہونا، (۲) مورث کی موت کے وقت وارثوں کی زندگی کا یقین یا ظن غالب ہونا، (۳) ارث کی جہت کا علم، یعنی اس بات کا علم کہ کون کس بنیاد پر وارث ہو رہا ہے۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص
285
)۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
مال کے اندر عموم ہے کہ وہ خواہ جائیدادِ منقولہ ہو یا غیر منقولہ، نقد ہو یا جنس، خواہ میت کی موت کے وقت اس کے قبضہ میں ہو یا دوسروں کے جیسے: قرض، پراویڈنٹ فنڈ، یہ سب ہی ترکہ قرار پائیں گے۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص
28٤
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.