غیر مسلم حکومت کے کسی کو اپنے والدین کا قاتل قرار دینے سے میراث کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #326Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضبابِ دوم: میراث سے متعلق احکام کا بیان

Question

ایک شخص کے بارے میں لوگوں نے بہت کچھ افواہیں چلائیں، وہ شخص کچھ مدت جیل میں رہا، اس نے حکومتِ وقت سے براء ت کی درخواست کی لیکن مسترد کر دی گئی، پھر حکومت نے محض قرائن کی وجہ سے والدین کے قاتل ہونے کا فیصلہ کر دیا، اور ۲۲ سال کی جیل کی سزا نافذ کر دی، اب چونکہ صحیح صورتِ حال معلوم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ تو کیا عدالتی فیصلہ کو بنیاد بنا کر اس شخص کو اپنے والدین کی میراث سے محروم رکھا جائے گا یا نہیں ؟ جب کہ وہ شخص قتل سے انکاری ہے اور کہتا ہے کہ والدہ نے والد یعنی بیوی نے شوہر کو قتل کیا اور پھر بیوی نے خود کشی کر لی۔ بینوا توجروا۔

Answer

شریعتِ مطہرہ میں قتل کے ثبوت کے لیے دو گواہ کا ہونا یا اس کا اقرار کرنا ضروری ہے حجتِ شرعیہ کے بغیر قتل ثابت نہیں ہوگا، بصورتِ مسئولہ شخص مذکور نے نہ تو اقرار کیا ہے اور نہ اس کے خلاف دو گواہ موجود ہیں، عدالت نے محض قرائن کی بنیاد پر بیٹے کو قاتل قرار دے دیا، شریعت کی نظر میں وہ قرائن بظاہر قتل کے ثبوت کے لیے نا کافی ہیں۔ پھر فقہاء نے میراث سے محرومی کا سبب ایسے قتل کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے قصاص یا کفارہ واجب ہوتا ہو۔ اور صورتِ مسئولہ میں غیر مسلم حکومت نے قصاص کا حکم نافذ نہیں کیا لہذا شخص مذکور اپنے والدین کی میراث کا مستحق ہے۔

قال العلامة السرخسي رحمه الله:

وحاصل المسألة على أربعة أوجه: أحدها إذا عاين قتله والثاني: إذا أقر عنده أنه قتله فهذا ومعاينة القتل سواء لأن الإقرار موجب بنفسه حتى لا يملك المقر الرجوع عن إقراره فهذا ومعاينة السبب سواء والثالث: أن يقيم البينة بأنه قتل أباه فيقضي له القاضي بالقود فهو في سعة من قتله لأن قضاء القاضي ملزم فيثبت به السبب المطلق لاستيفاء القود له والرابع أن يشهد عنده شاهدا عدل أن هذا الرجل قتل أباه فليس له أن يقتله بشهادة لأن الشهادة لا توجب الحق مالم يتصل بها قضاء القاضي فلا يتقرر عنده السبب المطلق لاستيفاء القود بمجرد الشهادة مالم ينضم إليه القضاء

الخ. (المبسوط: ۱۰/۳۱۲، ط: بيروت). وينظر: (فتاوى الشامي: ٦/۷٦۷، سعيد).

مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ قتل ثابت کرنے کے لیے دو عادل عینی گواہ قاضی کے سامنے گواہی دے اور قاضی اس پر فیصلہ کر دے، یا قاتل خود قتل کا اقرار کرے۔ اِن کے علاوہ قرائنِ محضہ سے قتل ثابت نہیں ہوتا۔ اور جب بیٹا والدین کا قاتل ثابت نہیں ہوتا تو میراث سے محروم بھی نہیں ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.