حکومت کے قتل کرنے پر حکومت سے خون بہا وصول کرنے کا حکم:
Question
۱۹۷۱ ء میں ایک شخص کا ناحق قتل ہوا تھا، امسال کورٹ نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جنوبی افریقہ کے پولیس والے (یعنی حکومت) نے اس کو قتل کیا تھا، تواب اس کے ورثہ حکومت سے دیت طلب کر سکتے ہیں؟ اگر حکومت دیت کی رقم ادا کر دے تو ورثاء میں کیسے تقسیم کی جائے گی؟ اگر حکومت دیت کی رقم سے زیادہ پیسہ ادا کرے تو زیادہ رقم کا لینا جائز ہوگا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
حکومت کا ناحق قتل، قتل عمد میں شامل ہے اور اس کا حکم یہ ہے قاتل پر قصاص واجب ہوگا، لیکن صورتِ مسئولہ میں حکومت سے قصاص کا مطالبہ مشکل ہے اور قاتل بھی بعینہٖ معلوم و متعین نہیں ، اس لیے دیت کا مطالبہ درست ہے اور جب حکومت دیت کی رقم ادا کرے گی تو مقتول کے تمام شرعی ورثہ میں "جو مقتول کے قتل کے وقت زندہ تھے" حسبِ سہامِ شرعی تقسیم کی جائے گی۔ اگر حکومت کچھ زیادہ ادا کرے تو اس کا لینا بھی جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: كان رسول الله ﷺ يقوم دية الخطأ على أهل القري
وقال رسول الله ﷺ: إن العقل ميراث بين ورثة القتيل على قرابتهم. (
سنن أبی داود، باب دیات الأعضاء: ۲/۲۲۷/٤۵٦٤)۔
شریفیہ شرح السراجیہ میں ہے:
واعلم أن دية المقتول خطأ كسائر أمواله حتى يقضي منها ديونه وتنفذ وصاياه ويرثها كل من يرث سائر أمواله
ولنا أنه ﷺ أمر بتوريث امرأة أشيم الضبابي من عقد زوجها، وقال الزهري: كان قتل أشيم خطأ، وكذا يثبت عندنا حق الزوجين في القصاص لقوله ﷺ: من ترك مالاً أو حقاً فلورثته، ولا ننكر أن القصاص حقه؛ لأنه بدل نفسه فيستحق جميع الورثة بحسب إرثهم كالدية
هكذا ذكره الإمام السرخسي في شرح كتاب الديات. (الشريفية شرح السراجية، ص ٤۹، ط: الرياض).
فتاوی شامی میں ہے:
لأن الإرث يجري في الأعيان المالية. (فتاوى الشامي: ٦/۷٦۲، سعيد).
وللاستزادة انظر: (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۳٦۵، ومجمع الأنهر: ۲/٤۰۱، وفتاوى الشامي: ٤/۵۱۷، سعيد، والفتاوى التاتارخانية: ۲۰/۲۱۳، والفتاوى الهندية: ٦/۷).
قاموس الفقہ میں مرقوم ہے:
مکمل ہلاکت یا کسی ایسے نقصان کا تاوان دیت ہے جس کو شریعت نے قتل و ہلاکت ہی کے حکم میں رکھا ہے، اگر قتل عمد کا واقعہ ہو اور مقتول کے ورثہ دیت لینے اور قاتل دیت دینے پر راضی ہو جائے تو اس صورت میں دیت واجب ہوتی ہے حنفیہ کے نزدیک دیت واجب ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک یہ کہ مقتول یا جس کو نقصان پہنچایا گیا ہے وہ معصوم ہو یعنی نقطہ نظر سے قتل کیے جانے کا مستحق نہ ہو دوسرے مقتول یا نقصان زدہ شخص کا خون شریعت کی نگاہ میں قابل قیمت بھی ہو۔ (قاموس الفقہ:
۳
/
٤۳۷
)۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں مذکور ہے:
قتل عمد وہ ہے کہ ارادہ سے کسی کو آہنی ہتھیار سے یا ایسی چیز سے جس سے گوشت پوست کٹ کر خون بہہ سکے قتل کیا جائے، قصاص یعنی جان کے بدلہ جان لینا ایسے قتل کے جرم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قتل موجب دیت میں دیت ورثہ میں بقدر حصص تقسیم ہو گی۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام:
۳
/
۱۹۲
)۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
اصل ہرجانہ ٹرک ڈرائیور کے ذمے لازم تھا، جس کے بقدرِ دیت مطالبے کا حق تھا، اس سے زائد مطالبے کا حق نہیں ، لیکن قاتلِ خطاخود زائد دے تو لینا جائز ہے۔ (فتاوی عثمانی:
۳
/
۵٤٤
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.