جبری پنشن فنڈ میں میراث کا حکم:
Question
ایک عورت کا انتقال ہوا، وہ سرکاری اسکول میں معلمہ تھی، اور اس کی تنخواہ میں سے بطورِ پنشن فنڈ کے ماہانہ کچھ کٹوتی ہوتی تھی، اب حکومت اس کے ورثاء کو پنشن فنڈ میں سے دینا چاہتی ہے اس طور پر کہ ایک ثلث میں سے اولاد اور شوہر کو برابر کا حصہ ملے گا، نیز شوہر کو بقیہ دو ثلث میں سے ماہانہ کچھ رقم ملتی رہے گی جب تک وہ زندہ رہے، اب پنشن فنڈ کی یہ رقم ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم کی جائے گی۔ جب کہ مرحومہ کے والدین، شوہر، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ پنشن فنڈ کی جو رقم حکومت ادا کرے گی وہ مرحومہ کے ترکہ میں شمار ہوگی اور دیگر اموال کے ساتھ حسبِ سہامِ شرعی تمام ورثاء میں تقسیم ہو گی، حکومت جس شخص کو نام زد کر دے فقط وہ شخص اس رقم کا شرعی مالک نہیں کہلائے گا، کیوں کہ یہ مرحومہ کا حق ہے اور میت کے حقوق بھی ترکہ میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
سوال: زید اپنی کمپنی کے تنخواہ دار منیجنگ ڈائرکٹر تھے جن کی تنخواہ میں سے باقاعدہ کمپنی کے قانون کے تحت ہر ماہ کچھ فنڈ کٹ کر جمع ہوتا تھا اس جمع شدہ رقم کا بھی نامزد وارث بڑے لڑکے کو کیا یہ از روئے شرع کیسا ہے؟ الجواب: فنڈ کی رقم کا بھی یہی حکم ہے کہ قانون کی روسے مورث نے جس کو وارث نامزد کیا ہے صرف وہی مستحق نہ ہوگا، بلکہ تمام ورثاء شرعی حسبِ تخریج شرعی مستحق ہوں گے نیز فنڈ میں اپنی تنخواہ سے کٹی ہوئی رقم سے زائد رقم جس کو محکمہ اپنی طرف سے ملاتا ہے یا اضافہ کر کے خود دیتا ہے اس کا صدقہ کرنا واجب نہیں ہوتا بلکہ یہ زائد رقم بھی ملازم کا ترکہ شمار ہو کر حسبِ تخریج شرعی مثل اصل رقم کے تمام ورثاء شرعی پر تقسیم ہو گی۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی، جلدِ دوم، ص
۲۷۰
،
۲۷۲
، ط: قاضی پبلشرز)۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
پراویڈنٹ فنڈ، لائف انشورنس، کو آپریٹوسوسائٹی جیسے معاملات میں ان کے ضوابط کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی رقم کے لیے دوسرے کو نامزد کر دیا تو نامزد شخص خواہ وارث ہو یا غیر وارث، اس کی حیثیت نہ موصی لہ کی ہو گی اور نہ موہوب لہ کی، بلکہ صرف امین کی ہو گی، لہذا نامزد کرنے والے شخص کی جمع کردہ اور وضع شدہ رقم اس کی موت کے بعد حسبِ سہامِ شرعی اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص
۲۵۵
، دفعہ
۱۰
)۔
پنشن فنڈ میت کا حق ہے اور حقوق میں وراثت کا جاری ہونا احادیث سے ثابت ہے؛ مثلاً: اگر کسی مسلمان کوکسی مسلمان نے غلطی سے قتل کر دیا اور دیت لازم ہوئی تو یہ میت کا حق ہے اور اس میں وراثت جاری ہو گی، اسی طرح اگر کسی مسلمان کو قصداً قتل کر دیا اور مقتول کے ورثاء سے صلح ہو گئی تو صلح میں لازم شدہ رقم میت کے حقوق میں سے ہے لہذا اس میں بھی وراثت جاری ہو گی۔ دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
أخرج الإمام مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: اقتتلت امرأتان من هذيل فرمت إحداهما الأخرى بحجر فقتلتها وما في بطنها فاختصموا إلى رسول الله ﷺ فقضي رسول الله ﷺ أن دية جنينها غرة عبد أو وليدة وقضي بدية المرأة على عاقلتها وورثها ولدها ومن معهم
الخ. (صحيح مسلم، رقم: ۱٦۸۱، باب دية الجنين).
فتاوى الشامي
میں ہے:
أن الإرث يجري في الأعيان المالية، أما الحقوق فمنها ما يورث كحق حبس المبيع وحبس الرهن، ومنها ما لا يورث كحق الشفعة وخيار الشرط. (فتاوى الشامي: ٦/۷٦۲، سعيد، وكذا ٤/٤۳۵، سعيد).
شریفیہ شرح السراجیہ میں ہے:
واعلم أن دية المقتول خطأ كسائر أمواله حتى يقضي منها ديونه وتنفذ وصاياه ويرثها كل من يرث سائر أمواله، وقال مالك: لا يرث الزوجان من الدية لانقطاع الزوجية بالموت ولا وجوب للدية إلا بعده، ولنا أنه ﷺ أمر بتوريث امرأة أشيم الضبابي من عقد زوجها، وقال الزهري: كان قتل أشيم خطأ، وكذا يثبت عندنا حق الزوجين في القصاص لقوله ﷺ: من ترك مالاً أو حقاً فلورثته، ولا ننكر أن القصاص حقه؛ لأنه بدل نفسه فيستحق جميع الورثة بحسب إرثهم كالدية
هكذا ذكره الإمام السرخسي في شرح كتاب الديات. (الشريفية شرح السراجية، ص ٤۹، ط: الرياض).
وللاستزادة انظر: (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۳٦۵، ومجمع الأنهر: ۲/٤۰۱، وفتاوى الشامي: ٤/۵۱۷، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: مرحوم ریلوے کے کارخانہ کے ملازم تھے، پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے تنخواہ کا ایک جز ہر ماہ وضع ہو کر جمع ہوتا رہتا تھا بصورتِ انتقال ملازم اس شخص کو ملتی ہے جسے وہ ن م زد کر دیا جائے؟
جواب: مرحوم کی تنخواہ سے وضع ہو کر جمع شدہ رقم بھی مرحوم کا ترکہ ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
۲٤٤
، جامعہ فاروقیہ)۔
خلاصہ یہ ہے کہ مرحومہ کا کل ترکہ بشمولِ پنشن فنڈ میں سے اگر مرحومہ کا کوئی قرض ہو تو ادا کرنے کے بعد بقیہ مال کے ثلث میں وصیت ہو تو اس کو نافذ کیا جائے گا، پھر ما بقی کے ۲٤ حصے کیے جائیں گے، ان میں سے شوہر کو ٦، والد کو ٤، والدہ کو ٤، اور ہر بیٹے کو ۲، اور ہر بیٹی کو ۱ حصہ دیا جائے گا۔
بعض مفتی حضرات نے اس کے خلاف لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی حقانیہ میں مرقوم ہے: سوال: جناب مفتی صاحب ! یہاں ایک آدمی کا انتقال ہو گیا ہے جو کہ فوج میں ملازم تھا اس نے اپنی پنشن بیوی کے نام پر اس عنوان سے کی تھی کہ میری وفات کے بعد میری پنشن میری بیوہ کودی جائے، اب اس کی وفات کے بعد اس کے دوسرے ورثاء پنشن میں وراثت کا دعوی کرتے ہیں، تو کیا مرحوم کی بیوہ کے علاوہ دیگر ورثاء کا بھی پنشن میں حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟
الجواب: پنشن کا وظیفہ مالِ مملوکہ نہیں بلکہ سرکار کی طرف سے ایک عطیہ ہوتا ہے بنا بریں یہ وظیفہ تقسیم میراث سے مستثنی ہوگا، سرکار جس کو چاہے اور جتنا چاہے دے سکتی ہے، صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرحوم کے کاغذات اس کی بیوہ کے نام ہیں اور سرکار بھی اس پر راضی ہے اس لیے یہ پنشن صرف بیوہ کا حق ہے۔
لما قال الشيخ أشرف علي التهانوي رحمه الله:
چونکہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع و احسان سرکار کا ہے، بدونِ قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہو گی، سرکار کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہے تقسیم کر دے۔ الخ (امداد الفتاوی:
۳٤۲
، کتاب الفرائض)۔ (فتاوی حقانیہ:
٦
/
۵٤۱
، و امداد الفتاوی:
٤
/
۳٤۲
، و احسن الفتاوی:
۹
/
۳۰۲
)۔
لیکن پنشن کے بارے میں ہم نے دلائل کی روشنی میں لکھا ہے کہ یہ میت کا حق ہے اس لیے اس میں وراثت جاری ہو گی، ہمارے نزدیک وراثت جاری ہونے کا قول راجح ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.