طلاقِ مغلظہ میں شوہر کے انتقال کے بعد میراث کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #320Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضبابِ دوم: میراث سے متعلق احکام کا بیان

Question

۱۔ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ مغلظہ دی پھر شوہر کا انتقال ہوا یا قتل کیا گیا، تو کیا بیوی عدت میں یا عدت کے بعد وراثت کی حقدار ہوگی یا نہیں ؟ ۲۔ اگر شوہر نے لائف انشورنس کرایا ہو تو اس رقم کے ساتھ کیا کیا جائے؟ بینوا توجروا۔

Answer

۱۔ بصورتِ مسئولہ اگر شوہر نے حالتِ صحت میں بیوی کو طلاقِ بائن یا طلاقِ ثلاثہ دی تھی تو چاہے شوہر کا انتقال عدت میں ہو جائے یا عدت کے بعد دونوں صورتوں میں بیوی میراث کی حقدار نہ ہو گی، اور اگر مرض وفات میں طلاقِ بائن یا طلاقِ ثلاثۃ دی تھی اور حالتِ عدت میں شوہر کا انتقال ہو گیا تو بیوی میراث کی حقدار ہوگی، اور اگر عدت کے بعد شوہر کا انتقال ہوا تو وراثت کی حقدار نہیں ، نیز اگر بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا تھا تب بھی وارث نہیں ہو گی۔
۲۔ انشورنس والی رقم میں سے اصل جمع کی ہوئی رقم حسبِ سہامِ شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم کی جائے گی، اور زائد رقم ثواب کی نیت کے بغیر فقراء پر صدقہ کر دی جائے گی۔

قال في الهداية: وإذا طلقها ثلاثاً وهو مريض ثم صح ثم مات لم ترث ولكنا نقول: المرض إذا تعقبه برء فهو بمنزلة الصحة لأنه ينعدم به مرض الموت فيتبين أنه لا حق لها يتعلق بماله فلا يصير الزوج فاراً.
ہدایہ کی عبارت کے ذیل میں محقق ابن ہمام تحریر فرماتے ہیں:
قوله فلا يصير الزوج فاراً يعني الفرار المستلزم للحكم الشرعي الخاص إنما يتحقق شرعاً بالإبانة في حال تعلق حقها ولا يتعلق إلا في مرض موته. (الهداية مع فتح القدير: ٤/۱۵٤، ط: دار الفكر).

بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:

وإن كانت "أي العدة" من طلاق بائن أو ثلاث فإن كان ذلك في حال الصحة فمات أحدهما لم يرثه صاحبه سواء كان الطلاق برضاها أو بغير رضاها، وإن كان في حال المرض فإن كان برضاها لا ترث بالإجماع وإن كان بغير رضاها فإنها ترث من زوجها عندنا وعند الشافعي لا ترث. (بدائع الصنائع: ۳/۲۱۸، سعيد).
وينظر: (البحر الرائق: ٤/٤۳).

مجموعہ قوانین اسلامی میں مرقوم ہے:
لائف انشورنس، کو آپریٹوسوسائٹی جیسے معاملات میں ان کے ضوابط کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی رقم کے لیے دوسرے کو نام زد کر دیا نام زد کرنے والے شخص کی جمع کردہ اور وضع شدہ رقم اس کی موت کے بعد حسبِ سہامِ شرعی اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی، اور سود کی رقم بلا نیتِ ثواب فقراء کو دے دینا ضروری ہوگا۔ (ص
۲۵٦
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.