دو طلاق کے بعد فسخ کرانے پر مغلظہ ہونے کا حکم:
Question
ایک شخص نے دو مختلف اوقات میں اپنی بیوی کو ایک ایک طلاق دی اس کے بعد رجوع کیا پھر کافی ساری وجوہات کی وجہ سے جمعیت نے نکاح فسخ کر دیا، اس لیے کہ شوہر طلاق نہیں دیتا تھا، اب بیوی پھر سابقہ شوہر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہتی ہے، تو کیا بغیر حلالہ کے جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جمعیت کا فسخ شوہر کی کوتاہیوں کے سبب واقع ہوا ہے اس وجہ سے یہ فسخ طلاقِ بائنہ کے حکم میں ہو کر اگلی دو طلاقوں کے ساتھ طلاقِ ثلاثہ کا حکم اختیار کر لے گا، اور عورت کے لیے بغیر حلالہ کے سابقہ شوہر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا درست نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ مختصر القدوری میں ہے:
والفرقة تطليقة بائنة. (قدوري: ۲۱۹، كتاب النكاح).
ہدایہ میں ہے:
لأن فعل القاضي أضيف إلى فعل الزوج فكأنه طلقها بنفسه. (الهداية: ۲/٤۲۱).
فتاوی شامی میں ہے:
قوله فرق الحاكم وهو طلاق البائن. (فتاوى الشامي: ۳/۷۰، سعيد).
الحیلۃ الناجزۃ میں ہے:
جن صورتوں میں قاضی عورت کو اختیار دے ان میں حکم یہ ہے کہ اگر عورت اسی مجلس میں تفریق چاہے تب تو تفریق ہو سکتی ہے ورنہ نہیں، پس اگر عورت نے اسی مجلس میں تخییر کہ دیا کہ میں اس شوہر سے علیحدہ ہونا چاہتی ہوں تو قاضی اس کے شوہر سے کہے کہ اس عورت کو طلاق دے دو اس پر اگر خاوند نے طلاق دے دی تو طلاقِ بائنہ واقع ہو جائے گی، اگر وہ طلاق دینے سے انکار کر دے تو قاضی خود تفریق کر دے یعنی مثلاً یوں کہ دے کہ میں نے تجھ کو اس کے نکاح سے الگ کر دیا تو یہ تفریق بھی شرعاً طلاقِ بائنہ کے قائم مقام ہو جاوے گی ۔ (الحیلۃ الناجزۃ: ۸۲) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
شرعی پنچایت اگر کسی معاملہ میں متفق ہو کر تفریق کر دے تو اس کا حکم قاضی کے حکم قائم مقام ہوگا، اور تفریق وغیرہ صحیح ہو جائے گی ۔ (الحیلۃ الناجزۃ: ۷٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.