ایک مجلس میں ایک کلمہ سے تین طلاق واقع ہونے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دے، تو اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے یا تین؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب مطلوب ہے؟
Answer
قرآن حدیث و اجماعِ امت اور علمائے سلف، ائمہ اربعہ، بزرگانِ دین اور مشائخ مسلمین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ایک مجلس میں ایک کلمہ سے تین طلاق دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہے، مثلاً اگر کوئی شخص اپنی مدخول بہا یا غیر مدخول بہا بیوی کو ایک ہی تلفظ میں تین طلاقیں دیں یا اپنی مدخول بہا بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں، مثلاً یہ کہے: تجھے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، ان دونوں صورتوں میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اور عورت مغلظہ ہو جاتی ہے، لہذا ایک طلاق کا فیصلہ نصوص کے مخالف ہے اور غلط ہے، اب اگر دو بارہ رشتۂ نکاح میں منسلک ہونا چاہیں تو اس کی گنجائش نہیں ہے، ہاں یہ عورت عدتِ طلاق گزار کر دوسرے مرد سے نکاح کر لے، اور حقوقِ زوجیت سے بہرہ ور ہوتے ہوے شوہر کے ساتھ رہے، پھر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے، یا وفات پا جائے، تو اس کی عدت ختم ہونے کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گی ۔
طلاقِ ثلاثہ پر جمہور کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
کتاب اللہ سے دلائل:
(۱)
قال الله تعالى: ﴿الطلاق مرتن فامساك بمعروف أو تسريح باحسان﴾. (سورة البقرة: ۲۲۹).
یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع ہو سکتا ہے، دو ہیں پھر قاعدہ کے مطابق رکھ لے، یا اچھے طریقے سے اس کو رخصت کرے ۔
تمام مفسرین اس آیت کا شانِ نزول یہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں طلاقیں دینے اور عدت میں رجوع کرنے کی کوئی حد نہیں تھی، سینکڑوں طلاقیں دی جاتی تھیں، بعض لوگ بیویوں کو ستانے اور پریشان کرنے کی غرض سے طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیتے تھے، ابتدائے اسلام میں بھی ایک عرصہ تک یہی طریقہ رائج تھا، بعد ازاں مذکورہ بالا آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور یہ دیرینہ رسم منسوخ ہو گئی، نیز طلاق و رجعت کی حد بندی کر دی گئی کہ دو طلاقوں تک رجعت کا حق حاصل ہے اس کے بعد رجعت کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، پھر طلاق کی آخری حد
﴿فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره﴾. (سورة البقرة: ۲۳۰)
کے ذریعہ بیان کی گئی ۔
لہذا اب اگر کسی نے تین طلاقیں دیں، چاہے متفرق مجالس میں یا ایک مجلس میں، چاہے ایک لفظ سے یا الگ الگ لفظ سے تینوں طلاقیں واقع ہو کر عورت مغلظہ ہو جائے گی، اور رجوع کا اختیار نہیں رہے گا ۔
اشکال: تین طلاق کو ایک ماننے والے حضرات میں سے بعض یہ اشکال کرتے ہیں کہ آیتِ کریمہ میں "مرتٰن" فرمایا گیا ہے، جو "مرۃ بعد مرۃ" یعنی یکے بعد دیگرے (ایک کے بعد دوسرا) کے معنی میں ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ دو طلاقیں دو مجلس میں ہوں، گویا آیتِ کریمہ میں ایک مجلس میں دو طلاق کا ذکر نہیں ہے ۔
الجواب: (الف) اس کا جواب یہ ہے کہ امام ابن جریر طبری رحمه الله نے روایات کی روشنی میں "مرتٰن" کی تفسیر "تطلیقتان" سے کی ہے جو ایک مجلس کی دو طلاق کو بھی شامل ہے، اور دو مجلس کی دو طلاق کو بھی شامل ہے، اور روایات کی روشنی میں جو تفسیر کی گئی ہو وہی معتبر ہوگی ۔
(باء) نیز "مرتٰن" "مرۃ بعد مرۃ" کے معنی میں قطعی بھی نہیں ہے، کیوں کہ دو چند اور ڈبل (دگنا) کے معنی میں بھی قرآن و حدیث میں استعمال ہوا ہے، چند مثالیں بطور "مشتے نمونہ از خروارے" ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ﴿أولئك يؤتون أجرهم مرتين﴾. (سورة القصص: ۵٤).
یعنی یہ لوگ (مؤمنین اہل کتاب) اپنا دگنا اجر و ثواب دیے جائیں گے ۔
(۲) ﴿ومن يقنت منكن لله ورسوله وتعمل صالحاً نؤتها أجرها مرتين﴾. (سورة الاحزاب: ۳۱).
اور جو کوئی تم میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے، اور اچھے عمل کرے، توہم اس کو اس کا ثواب دگنا دیں گے ۔
ان دونوں آیات مبارکہ میں "مرتین" دو چند اور دہرے ہی کے معنی میں ہے، یہ مطلب نہیں کہ ان کو الگ الگ دو مرتبہ ثواب دیا جائے گا ۔
(۳) صحیح بخاری وغیرہ کئی کتبِ حدیث میں وضو کے باب میں حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت موجود ہے:
"أن النبي ﷺ توضأ مرتين مرتين". (رواه البخاري: ۱/۲۷/۱۵۸. والترمذي: ۱/۱۷ عن أبي هريرة رضي الله عنه. وأبو داود: ۱/۱۸، عن أبي هريرة رضي الله عنه. واحمد في مسنده: برقم ۱٦۹۱۱، عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه. والبيهقي في سننه الكبرى: ۱/۷۹/۳۸۰، عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه).
اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اعضائے وضو کو ایک مجلس میں دو دو مرتبہ دھویا، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک مجلس میں ایک مرتبہ اور دوسری مجلس میں دوسری مرتبہ دھویا ۔
(٤) "ان أهل مكة سألوا رسول الله ﷺ أن يريهم آية فأراهم انشقاق القمر مرتين". (رواه مسلم في صحيحه: ۲/۳۷۳، باب انشقاق القمر، فيصل. وعلى هامشه: قال: مرتين أي قطعتين).
حدیث بالا میں "مرتین" "فِ لقتین" دو ٹکڑے کے معنی میں ہیں؛ دو مجلس میں شق قمر کا معجزہ دکھانا مراد نہیں، کیوں کہ یہ معجزہ صرف ایک ہی بار ظہور پذیر ہوا ۔
پھر اگر "مرتین" سے "مرۃ بعد أخری" مراد ہو تب بھی صرف اتنی بات ثابت ہو گی کہ دو طلاقیں الگ الگ آگے پیچھے دی جائیں، بیک وقت و بیک کلمہ نہ دی جائیں، اس سے زیادہ کوئی اور قید مثلاً تفریق مجلس وغیرہ کی طرف معمولی اشارہ بھی نہیں ہے، اس لیے اگر ایک مجلس یا ایک طہر میں انت طالق انت طالق، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، الگ الگ لفظ سے طلاق دی جائے تو یہ صورت بھی "الطلاق مرتٰن" کے عین مطابق ہو گی ۔
اور جب اس آیت کی روسے ایک مجلس یا ایک طہر میں متعدد تلفظ سے دی گئی طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، تو ایک تلفظ سے دی گئی طلاقیں بھی واقع ہو جائیں گی، کیوں کہ ایک مجلس میں دی گئی دونوں طلاقوں کا حکم بغیر کسی اختلاف سب کے نزدیک یکساں ہے ۔
(۲) ﴿فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره﴾. (سورة البقرة: ۲۳۰).
بعض علماء نے اس آیتِ کریمہ سے ایک مجلس میں تین طلاقوں کے وقوع پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ "فان طلق" فعل شرط ہے اور وہ عموم کے صیغوں میں سے ہے، جیسا کہ کتبِ اصول میں مصرح ہے، لہذا اس کے عموم میں ایک مجلس کی تین طلاقیں بھی داخل ہیں ۔
علامہ ابن حزم ظاہری رحمه الله اس آیتِ کریمہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
فهذا يقع على الثلاث مجموعة ومتفرقة ولا يجوز أن يخص بهذه الآية بعض ذلك دون بعض بغير نص. (المحلي: ۱۰/۱۷۰).
(۳) ﴿تلك حدود اللّه ومن يتعد حدود اللّه فقد ظلم نفسه، لا تدري لعل اللّه يحدث بعد ذلك امراً﴾. (سورة الطلاق: ۱).
اس آیتِ کریمہ کا ظاہر یہی بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین طلاقوں کا جو حق مرد کو دیا ہے، اگر وہ اس کو ایک ہی دفعہ میں استعمال کر لے، تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، البتہ وہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدسے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی ذات پر ظلم کرنے والا ہوگا، کیوں کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں طلاق پر ندامت پیدا کر دے، اور بیک وقت تینوں طلاقیں دے دے نے کی صورت میں زوجین کے درمیان جدائی واقع ہو جانے سے اس ندامت کا تدارک اور ازالہ نہ ہو سکے گا، اگر ایک دفعہ کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق رجعی شمار ہوتی، جیسا کہ بعض اہل ظاہر، علامہ ابن تیمیہ رحمه الله، شیخ ابن القیم رحمه الله اور دیگر غیر مقلدین حضرات کہتے ہیں، تو ندامت کس بات پر ہوئی؟ کیونکہ رجعت کے ذریعہ اس کے تدارک اور ازالہ کی گنجائش موجود ہے ۔
حاصل کلام: ان تینوں آیاتِ قرآنیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک لفظ سے دی گئی تین طلاقیں واقع ہوں گی ۔
اس کے برعکس کسی ایک آیت سے اشارۃً بھی یہ بات نہیں نکلتی کہ بیک مجلس یا بیک کلمہ دی گئی تین طلاقیں ایک شمار ہوں گی ۔
احادیث سے دلائل:
(۱) عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن رجلاً طلق امرأته ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبي ﷺ: أ تحل للأول؟ قال: لا! حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. (صحيح البخاري: ۲/۷۹۱، باب من أجاز طلاق الثلاث، فيصل).
حدیث بالا میں "طلق امرأتہ ثلاثاً" کا ظاہر یہی ہے کہ تینوں طلاقیں ایک ساتھ دی گئی تھیں، امام بخاری رحمه الله نے اسی پر بنیاد رکھتے ہوے اس حدیث کو "باب من أجاز الطلاق الثلاث" کے تحت ذکر فرمایا ہے ۔
چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمه الله فرماتے ہیں:
فالتمسك بظاهر قوله طلقها ثلاثا فانه ظاهر في كونها مجموعة. (فتح الباري: ۹/۳٦۷، باب من جوز طلاق الثلاث، الحديث الثالث حديث عائشة رضي الله عنه، لا هور).
(۲) امام بخاری رحمه الله نے "باب من اجاز الطلاق الثلاث" کے تحت حضرت سہل بن سعد رضي الله عنه کی روایت نقل فرمائی ہے، جس میں حضرت عویمر عجلانی رضي الله عنه کا قصہ لعان ذکر فرمایا ہے ۔
اس قصہ میں مذکور ہے کہ جب میاں بیوی لعان سے فارغ ہوے تو حضرت عویمر رضي الله عنه نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کرنے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ۔
چنانچہ مذکور ہے: "
فطلقها ثلاثاً قبل أن يأمره رسول الله ﷺ. (صحيح البخاري: ۲/۷۹۱، باب من أجاز طلاق الثلاث).
اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ۔
قال العلامة العيني رحمه الله: "فطلقها" وأمضاه رسول الله ﷺ، ولم ينكر عليه فدل على أن من طلق ثلاثاً يقع ثلاثاً. (عمدة القاري: ۱٤/۲۳۸، ملتان).
اشکال: تین کو ایک ماننے والے بعض حضرات کہتے ہیں کہ نفس لعان ہی سے فرقت ہو گئی تھی، اور جب بیوی اجنبیہ ہو گئی تو محل طلاق ہی نہیں، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس طرح طلاق دینے پر سکوت فرمایا ۔
الجواب (الف): حضرت عویمر رضي الله عنه یہی سمجھ رہے تھے کہ نفس لعان سے فرقت نہیں ہوتی، ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے فرقت ہو جائے گی، اس لیے انہوں نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک صحابی ایک ساتھ تین طلاق واقع ہونے کو صحیح سمجھتے ہو، اور ان کا یہ صحیح سمجھنا غلط ہو، اس کے باوجود آپ ﷺ سکوت فرمائیں، اور کوئی نکیر نہ فرمائیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ۔
حضرت عویمر رضي الله عنه کے واقعہ لعان سے متعلق کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مجلس کی تین طلاق کو کالعدم یا ایک طلاق قرار دیا ہو؛ بلکہ اس کے برعکس اسی واقعہ سے متعلق سنن ابی داود کی روایت میں تصریح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان طلاقوں کو نافذ فرما دیا ۔
ملاحظہ فرمائیں: "
فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله ﷺ فأنفذه رسول الله ﷺ وكان ما صنع عند رسول الله ﷺ سنة". (سنن أبي داود: ۱/۳۰٦، باب في اللعان، فيصل).
(باء) ان کی تاویل کی بنیاد اس بات پر ہے کہ نفس لعان ہی سے زوجین کے درمیان مفارقت ہو جاتی ہے، حالانکہ یہ بات خود محل نظر ہے، کیوں کہ صرف لعان سے فرقت پر نہ لعان کا لفظ دلالت کرتا ہے اور نہ کسی آیت یا کسی صریح حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے، لہذا لعان سے فرقت کوئی امر قطعی نہیں بلکہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، اس لیے فقہاء کی مختلف آراء ہیں ۔
اور حضرت عویمر رضي الله عنه کا لعان کے بعد رسول اللہ ﷺ کے سامنے تین طلاق دینا اور رسول اللہ ﷺ کا اس پر سکوت بلکہ بروایتِ سنن ابی داود تینوں طلاقوں کو نافذ کرنا ایک امر منصوص ہے، اور ظاہر ہے کہ مسئلہ اجتہادی کے مقابلہ میں ترجیح رسول اللہ ﷺ کے قول، عمل اور تقریر کو ہوگی، یہی تمام محدثین اور فقہاء کا مسلک ہے ۔
(۳) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مسئلہ دریافت کیا گیا:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها أنها سئلت عن الرجل يتزوج المرأة فيطلقها ثلاثاً، فقالت: قال رسول الله ﷺ: لا تحل للأول حتى يذوق الآخر عسيلتها وتذوق عسيلته. (السنن الكبرى للبيهقي مع الجوهر النقي: ۷/۳۷٤، باب نكاح المطلقة ثلاثاً، دار المعرفة، وقال الامام البيهقي: رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة: ۱/٤٦۳، باب لا تحل المطلقة ثلاثاً لمطلقها، فيصل).
حدیث بالا میں "فیطلقہا ثلاثاً" کا ظاہر اکٹھی تین طلاق کو بتلا رہا ہے ۔
(٤) سنن نسائی میں محمود بن لبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تو آپ ﷺ غضب ناک ہو کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جائے گا جب کہ میں تمہارے سامنے موجود ہوں؟
"أخبر رسول الله ﷺ عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعاً فقام غضباناً ثم قال: أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم. (رواه النسائي: ۲/۹۹، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، قديمي).
اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ یہ تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں ۔
حافظ ابن القیم فرماتے ہیں "اسنادہ علی شرط مسلم" ۔
(زاد المعاد: ۵/۲٤۱، فصل في حكمه ﷺ فيمن طلق ثلاثاً بكلمة واحدة، مؤسسة الرسالة).
اور علامہ ماردینی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بسند صحیح ہے،
(الجوهر النقي: ۷/۳۳۳، دار المعرفة بيروت).
حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: "اسنادہ جید" (
نيل الاوطار: ٦/۲٤۱، باب ما جاء في طلاق البتة، إدارة القرآن).
حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں: رواہ النسائی ورواتہ موثقون ۔ (
بلوغ المرام: ۳۲۱، باب الطلاق، الكويت).
قاضی ابو بکر ابن العربی نے اس حدیث کے متعلق فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عویمر عجلانی رضي الله عنه کی تین طلاقوں کی طرح اس شخص کی بھی تین طلاقوں کو نافذ فرما دیا تھا ۔
"فلم يرده النبي ﷺ بل أمضاه كما في حديث عويمر العجلاني في اللعان حيث أمضي طلاقه الثلاث ولم يرده. (تهذيب سنن أبي داود: ۳/۱۲۹، طبع مصر).
(۵) دار قطنی میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه کا واقعہ مذکور ہے، اس کے آخر میں ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر میں نے تین طلاقیں دی ہوتیں تو کیا میرے لیے رجوع کرنا جائز ہوتا؟ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں اس صورت میں بیوی تم سے جدا ہو جاتی اور تمہارا یہ فعل (تین طلاقیں ایک ساتھ دینا) گناہ ہوتا ۔
ملاحظہ ہو دار قطنی میں ہے:
عن الحسن قال نا عبد الله بن عمر رضي الله عنه أنه طلق امرأته تطليقة وهي حائض ثم أراد أن يتبعها بتطليقتين أخراوين عند القرئين، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ فقال: يا ابن عمر ما هكذا أمرك الله أنك قد أخطأت السنة، والسنة أن تستقبل الطهر فتطلق لكل قرء، قال فأمرني رسول الله ﷺ فراجعتها ثم قال: اذا هي طهرت فطلق عند ذلك أو أمسك فقلت: يا رسول الله! أرأيت لو أني طلقتها ثلاثاً أكان يحل لي أن أراجعها قال: لا، كانت تبين منك وتكون معصية. (سنن دار قطني: ٤/۳۱/۸٤، كتاب الطلاق، والسنن الكبرى للبيهقي: ۷/۳۳٤، دار المعرفة).
(٦) عن سويد بن غفلة قال: لما مات على رضي الله عنه جاء ت عائشة بنت خليفة الخثعمية امرأة الحسن بن على رضي الله عنه فقالت له: لتهنك الإمارة، فقال لها: تهنيني بموت أمير المؤمنين انطلقي فأنت طالق ثلاثاً فتقنعت بثوبها أو قالت: إني لم أرد إلا خيراً فبعث إليها بمتعة عشرة آلاف وبقية صداقها فلما وضع بين يديها بكت وقالت: متاع قليل من حبيب مفارق فأخبره الرسول فبكي وقال: لولا أني أبنت الطلاق لها لراجعتها لكني سمعت رسول الله صلي عليه وسلم يقول: أيما رجل طلق امرأته ثلاثاً عند كل طهر تطليقة أو عند رأس كل شهر تطليقة أو طلقها ثلاثاً جميعاً لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره. (سنن دار قطني: ٤/۱۳/۸۳، كتاب الطلاق، والخلع. والبيهقي: ۷/۳۳٦، باب ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث، وقال ابن رجب: إسناده صحيح).
اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حسن بن علی رضي الله عنه نے ایک موقع پر اپنی بیوی عائشہ خثعمیہ کو اس لفظ سے طلاق دی "انطلقي فأنت طالق ثلاثاً" تو چلی جا تجھ کو تین طلاق ہے، عائشہ چلی گئیں، بعد میں حضرت حسن رضي الله عنه کو معلوم ہوا کہ عائشہ کو جدائی کا بہت غم ہے تو روئے اور فرمایا "اگر میں نے بائنہ طلاق نہ دی ہوتی تو رجوع کر لیتا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے (اور ایک دوسری روایت میں ہے اگر میں نے اپنے والد سے اور انہوں نے میرے جد امجد آنحضرت ﷺ سے نہ سنا ہوتا) کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق اس طرح دے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے یا ہر مہینہ کے شروع میں ایک طلاق دے یا تین طلاق ایک ساتھ دے دے تو جب تک وہ عورت دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے پہلے کے لیے حلال نہیں ہو سکتی ۔
(۷) حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث جو سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے اور ابن ماجہ نے خود اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے وقوع پر استدلال کیا ہے، انہوں نے ایک باب کا عنوان یہ قائم کیا ہے ۔ "باب من طلق ثلاثاً في مجلس واحد" اور اس باب میں یہ حدیث ذکر کی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں:
حدثنا محمد
عن عامر الشعبي قال: قلت لفاطمة بنت قيس: حدثيني عن طلاقك قالت: طلقني زوجي ثلاثاً وهو خارج إلى اليمن فأجاز ذلك رسول الله ﷺ. (ابن ماجه: ۱٤۷. نسائي: ۲/۱۰۰. أبو داود: ۱/۳۱۹، دار قطني: ٤/۱۲، القاهرة).
یعنی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر نے تین طلاقیں بھیج دیں، تو آنحضرت ﷺ نے ان تینوں طلاقوں کے واقع ہونے کا فتویٰ دیا ۔
(۸) سنن دار قطنی میں ہے: "
عن على رضي الله عنه قال: سمع النبي ﷺ رجلاً طلق البتة، فغضب، وقال: "تتخذون آيات الله هزواً، أودين الله هزواً ولعباً، من طلق البتة ألزمناه ثلاثاً، لا تحل له حتى تنكح زوجاً غيره". (سنن دار قطني: ٤/۲۰، كتاب الطلاق، القاهرة).
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی شخص کے متعلق سنا کہ انہوں نے "طلاق البتہ" دی ہے، (لفظ البتہ سے ایک طلاق مراد ہوتی ہے اور تین طلاقوں کی بھی نیت ہو سکتی ہے) حضور ﷺ غضبناک ہو گئے، اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو کھیل اور مذاق بناتے ہیں جو کوئی طلاق البتہ دے گا ہم اس کے ذمہ تین لازم کر دیں گے، پھر وہ عورت اس کے لیے حلال نہ ہو گی یہاں تک کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح کر لے ۔
(۹) مصنف عبد الرزاق میں ہے:
عن إبراهيم بن عبيد الله بن عبادة بن الصامت عن أبيه عن جده قال: طلق جدي امرأة له ألف تطليقة، فانطلق أبي إلى رسول الله صلي عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال النبي ﷺ: أما اتقي الله جدك، أما ثلاث فله، وأما تسع مائة وسبعة وتسعون فعدوان وظلم، إن شاء الله تعالى عذبه، وإن شاء غفر له. (مصنف عبد الرزاق: ٦/۳۹۳. باب المطلق ثلاثاً، المجلس العلمي. وسنن دار قطني: ٤/۲۰، كتاب الطلاق، القاهرة).
روایتِ مذکورہ بالا میں ایک ہزار طلاقیں ایک ساتھ دی گئیں، حضور ﷺ نے تین طلاقوں کے وقوع کو تسلیم فرما لیا ۔
(۱۰)
عن صفوان بن عمران الطائي أن امرأة كانت تبغض زوجاً فوجدته نائماً فأخذت شفرة وجلست على صدره ثم حركته وقالت: لتطلقني ثلاثاً أو لا ذبحنك فناشدها الله فأبت فطلقها ثلاثاً ثم جاء إلى رسول الله ﷺ فسأله عن ذلك فقال رسول الله ﷺ: "لا قيلولة في الطلاق". (سنن سعيد بن منصور: ۱/۲۷۵/۱۱۳۰. ورواه محمد بإسناده، زجاجة المصابيح: ۲/٤۷٦، باب الخلع والطلاق).
(تلك عشرة كاملة)
آثارِ صحابہ سے دلائل:
(۱) خلیفۂ راشد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ:
عن زيد بن وهب أن بطالاً كان بالمدينة فطلق امرأته ألفاً فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال: إنما كنت ألعب، فعلاه عمر رضي الله عنه بالدرة، وقال: إن كان ليكفيك ثلاث. (أخرجه البيهقي في سننه الكبرى: ۷/۳۳٤، باب ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث، دار المعرفة).
(۲) خلیفۂ راشد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ:
من طريق وكيع عن جعفر بن برقان عن معاوية بن أبي يحيي قال: جاء رجل إلى عثمان بن عفان رضي الله عنه، فقال: طلقت امرأتي ألفاً فقال: بانت منك بثلاث. (محلي ابن حزم: ۱۰/۱۷۲، كتاب الطلاق).
(۳) خلیفۂ راشد حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کا فتویٰ:
ومن طريق وكيع عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت قال: جاء رجل إلى على بن أبي طالب رضي الله عنه فقال: إني طلقت امرأتي ألفاً فقال له على رضي الله عنه: بانت منك بثلاث. (محلي ابن حزم: ۱۰/۱۷۲، كتاب الطلاق. وسنن بيهقي: ۷/۳۳۵ ومصنف ابن أبي شيبة: ۵/۱۳. وطحاوي شريف: ۲/۳۷).
(٤) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فتویٰ:
عن محمد بن إياس بن بكير عن أبي هريرة وابن عباس وعائشة رضي الله تعالى عنهم في الرجل يطلق امرأته ثلاثاً قبل أن يدخل بها، قالوا: لا تحل له حتى تنكح زوجاً غيره. (مصنف ابن أبي شيبة: ۵/۲۳، في الرجل يتزوج المرأة ثم يطلقها. ومصنف عبد الرزاق: عن أبي سلمة: ٦/۳۳٤).
(۵) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ:
عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه سئل عن رجل طلق امرأته مائة: قال: ثلاث تبينها منك، وسائرها عدوان. (طحاوي شريف: ۲/۳۷، باب الرجل يطلق امرأته ثلاثاً معاً. مصنف عبد الرزاق: ٦/۳۹۵، باب المطلق ثلاثاً. وسنن كبري للبيهقي: ۷/۳۳۲، بيروت).
(٦) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ:
عن نافع قال: كان ابن عمر رضي الله عنه إذا سئل عمن طلق ثلاثاً، قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فان النبي ﷺ أمرني بهذا، فإن طلقها ثلاثاً حرمت عليك حتى تنكح زوجاً غيره. (صحيح البخاري: ۲/۷۹۲).
(۷) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فتویٰ:
عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنه في رجل طلق امرأته ألفاً، فقال: أما ثلاث فتحرم عليك امرأتك، وبقيتهن عليك وزر، اتخذت آيات الله هزواً. (السنن الكبرى للبيهقي: ۷/۳۳۲. وسنن الدار قطني: ٤/۱٤، كتاب الطلاق، القاهرة، وقال الشيخ الألباني في الإرواء: إسناده صحيح).
(۸) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ:
عن معاوية بن أبي عياش الأنصاري أنه كان جالساً مع عبد الله بن زبير رضي الله عنه وعاصم بن عمر رضي الله عنه فجاء هما محمد بن إياس بن البكير فقال: إن رجلاً من أهل البادية طلق امرأته ثلاثاً قبل أن يدخل بها فماذا تريان؟ فقال ابن الزبير رضي الله عنه: إن هذا الأمر ما لنا فيه من قول فاذهب إلى ابن عباس رضي الله عنه وأبي هريرة رضي الله عنه فاسئلهما ثم ائتنا فأخبرنا، فذهب فسألهما، فقال ابن عباس لابي هريرة أفته يا أبا هريرة، فقد جاء تك معضلة، فقال أبو هريرة رضي الله عنه: الواحدة تبينها والثلاث تحرمها حتى تنكح زوجاً غيره. (طحاوي شريف: ۲/۳۷، باب الرجل يطلق امرأته ثلاثاً معاً. موطأ امام مالك: ص ۲۰۸. سنن بيهقي: ۷/۳۳۵. ومصنف عبد الرزاق: ٦/۳۳٤).
(۹) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ:
عن عطاء بن يسار أنه جاء رجل إلى عبد الله بن عمرو رضي الله عنه فسأله عن رجل طلق امرأته ثلاثاً قبل أن يمسها قال عطاء فقلت له طلاق البكر واحدة فقال عبد الله: إنما أنت قاص الواحدة تبينها والثلاث تحرمها حتى تنكح زوجاً غيره. (طحاوي شريف: ۲/۳۷، باب الرجل يطلق امرأته ثلاثاً معاً، سعيد،. وابن أبي شيبة: ۵/۲۲. ومصنف عبد الرزاق: ٦/۳۳٤).
(۱۰) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اثر:
عن أبي الزبير عن جابر قال سمعت أم سلمة سئلت عن رجل طلق امرأته ثلاثاً قبل أن يدخل بها فقالت: لا تحل له حتى يطأها غيره. (مصنف ابن أبي شيبة: ۵/۲۲، في الرجل يتزوج المرأة).
(تلك عشرة كاملة).
اجماع امت سے دلائل:
عہد فاروقی میں حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوگی ۔
اجماع کے ثبوت میں محققین فقہاء و محدثین کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:
حافظ الکتاب و السنۃ الشیخ ابو بکر جصاص رازی رحمه الله فرماتے ہیں:
فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معاً وإن كانت معصية. (أحكام القرآن: ۱/۳۸۸، ذكر الحجاج لا يقاع الثلاث معاً، سهيل).
شیخ ابن الہمام رحمه الله فرماتے ہیں:
فإجماعهم ظاهر، فإنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر رضي الله تعالى عنه حين أمضي الثلاث له. (فتح القدير: ۳/٤۷۰، باب طلاق السنة، دار الفكر).
علامہ بدر الدین عینی رحمه الله "عمدۃ القاری" میں تحریر فرماتے ہیں:
ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون وكثيرون، على أن من طلق امرأته ثلاثاً وقعن، ولكنه يأثم، وقالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لا هل السنة، وإنما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ۱٤/۲۳٦، باب من أجاز طلاق الثلاث، ملتان).
شیخ محمد امین الشنقیطی رحمه الله اپنی تفسیر میں ابن عربی مالکی رحمه الله کا قول نقل کرتے ہوے فرماتے ہیں:
وقد اتفق علماء الإسلام وأرباب الحل والعقد في الأحكام على أن الطلاق الثلاث في كلمة وإن كان حراماً في قول بعضهم وبدعة في قول الآخرين لازم
وما نسبوه إلى الصحابة كذب بحت، لا أصل له في كتاب ولا رواية له عن أحد. (اضواء البيان: ۱/۱۳٦).
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمه الله مذ
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.