"تجھے ایک دو تین طلاق" کہنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا "تجھے ایک دو تین طلاق" تو کتنی طلاق واقع ہوئی؟
Answer
بصورتِ مسئولہ تین طلاقیں واقع ہو گئیں، لہذا بدونِ حلالہ کے یہ عورت زوج اول کے لیے حلال نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
(والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة وفي الشامية: قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به أي متي قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثاً طلقت ثلاثاً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۸۷، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به، سعيد).
خلاصۃ الفتاوی میں ہے:
ولو قال:
بیکے ودو و سہ
طلاق ثم تزوجها يقع الثلاث وتمام هذا في خزانة الواقعات. (خلاصة الفتاوى: ۲/۸۷، جنس آخر في العدد، المكتبة الرشيدية).
مزید ملاحظہ ہو:
(الفتاوي البزازية علي هامش الهندية: ٤/۱۸۲، فيما يتعلق لصريح الطلاق
۔
والفتاوى الحمادية: ص ۱٤۱
۔
والفتاوى التاتارخانية: ۳/۲۷۸، إيقاع الطلاق بطريق الإضمار وترك الإضافة).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"ایک، دو، تین" سے بھی مغلظہ ہو گئی، بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا. (فتاوی محمودیہ: ۱۲/٤٦٤، مبوب و مرتب).
مزید ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام: ۲/۵۹۵۔ و فتاوی حقانیہ: ٤/٤٦۰).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.