دو طلاق دے کر تین کہنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں، پھر جب بیوی کے خاندان والے زیارت کے لیے پہونچے اور انہوں نے پوچھا کہ آپ نے کتنی طلاقیں دیں، تو اس نے کہا میں نے تین طلاقیں دیں، بنگاہِ شریعت کتنی واقع ہوئیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کے تین طلاق کا اقرار کرنے سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں، اگر چہ در حقیقت دو ہی طلاقیں دی تھیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وكذا أنت طالق قبل أن أتزوجك أو أمس وقد نكحها اليوم ولو نكحها قبل أمس وقع الآن لأن الإنشاء في الماضي إنشاء في الحال
أنت حر قبل أن أشتريك أو أنت حر أمس وقد اشتراه اليوم فإنه يعتق لما يعتق لو أقر لعبد ثم اشتراه لا قراره بحريته. وفي الشامية: قوله لأن الإنشاء في الماضي إنشاء في الحال لأنه ما أسنده إلى حالة منافية، ولا يمكن تصحيحه إخباراً لكذبه وعدم قدرته على الإسناد، فكان إنشاء في الحال. (الدر المختار مر رد المحتار: ۳/۲٦٦، باب الصريح، سعيد).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
وفي الصغرى: في أمالي أبي يوسف رحمه الله: إذا قال لها: "قد طلقتك" أوقال لها: "أنت طالق" وأراد الخبر عما مضي كذباً وسعه فيما بينه وبين الله تعالى أن يمسكها، وإن لم يرد الخبر عما مضي وأراد الكذب فهي طالق في القضاء وفيما بينه وبين ربه، وكذا إذا أراد الهزل طلقت قضاءً وديانة. (الفتاوى التاتارخانية: ۳/۲٦۱، فيما يرجع إلى صريح الطلاق، إدارة القرآن).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: ایک شخص نے اپنی زوجہ کو دو طلاقیں دی تھی، چند ایام کے بعد ایک مولوی صاحب اس معاملہ کے فیصلہ کے لیے تشریف لائے، اور مجمع عام میں اس مرد مطلق سے دریافت کیا کہ تم نے اپنی زوجہ کو کتنی طلاق دی، اس مرد نے کہا کہ تین طلاقِ مغلظہ، پھر دو چار یوم کے بعد وہ مرد کہنے لگا کہ میں نے دراصل دو طلاق دی تھی، دو گواہ موجود تھے، میں نے جھوٹ بول کر تین کہہ دی، آیا دو طلاق ہوں گی، یا تین؟
الجواب: جب کہ اس مرد نے بجوابِ سوال مذکور یہ کہا کہ تین مغلظہ تو اس کی زوجہ پر تین طلاق واقع ہوئی، اور رجوع کرنا اس کلام سے صحیح نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۲۲٦، ۳۱٤، ۳٤۲، مدلل مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.