ڈر کی وجہ سے لا علمی میں تین مرتبہ "أنت طالق" کہنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #25Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۲): صریح الفاظ سے طلاق دینے کا بیان

Question

ایک نو مسلم شخص کے خسر نے تین طلاقیں انگریزی زبان میں اس سے حاصل کیں، جب کہ اس نو مسلم کو معلوم نہیں تھا کہ تین دینے سے کیا ہوگا، محض ڈر کی وجہ سے یہ الفاظ بغیر نیت کے کہ دیے، تو ان الفاظ
"أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق"
سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوئی، اس لیے کہ بعد والی دو طلاقوں سے نئی طلاق دینا مقصود نہیں تھا، بلکہ ایک اور تین میں فرق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ویسے ہی تکرار کیا، لہذا دیانۃً تصدیق کی جائے گی، ہاں اگر بیوی نے قاضی کے سامنے مقدمہ پیش کر دیا تو قاضی تین طلاقوں کا فیصلہ دے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں تبیین الحقائق میں ہے:

إذا قال: أنت طالق، طالق، طالق، وقال: إنما أردت به التكرار صدق ديانة لا قضاءً فإن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر. (تبيين الحقائق: ۲/۲۱۸).

الاشباہ و النظائر میں ہے:

ولو كرر لفظ الطلاق فإن قصد الاستئناف وقع الكل أو التأكيد فواحدة ديانة والكل قضاءً وكذا إذا أطلق. (الأشباه والنظائر: ۱/۱۷۸).

مزید ملاحظہ ہو: (الفتاوی الہندیۃ: ۱/۳۵۵، باب فی ایقاع الطلاق۔ الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۳۵، سعید۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/٤٤۳، مبوب و مرتب).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.