الفاظ صریحہ میں تاکید کی نیت کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کے سامنے "أنت طالق، طالق، طالق" کے الفاظ کہے اور دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت کی تو ایک واقع ہو گی یا تین؟ اور طلاقِ رجعی واقع ہو گی یا بائن؟
Answer
بصورتِ مسئولہ تاکید کی نیت کرنے کی وجہ سے دیانۃً ایک طلاقِ بائن واقع ہو گی، لیکن قضاء اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی ۔
فتاوی قاضيخان میں ہے:
رجل قال لا مرأته: أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق، فقال: عنيت بالأولي الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثاً. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤٦۱، كتاب الطلاق).
ومثله في الأشباه والنظائر مع حاشية الحموي: (۱/۱۷۸)، القاعدة الثانية الأمور بمقاصدها. والفتاوى التاتارخانية: (۳/۲۸٦)، نوع آخر في تكرار الطلاق وإيقاع العدد).
ہدایہ میں ہے:
وإذا وصف الطلاق بضرب من الزيادة والشدة كان بائناً. (الهداية: ۲/۳٦۹).
در مختار میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين. (الدر المختار: ۳/۲۹۳، باب طلاق غير المدخول بها، سعيد).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: زید نے اپنی بیوی کو حالتِ غصہ میں تین تین طلاق دیں ساتھ الفاظ متفرقہ اور صریحہ کے وہ الفاظ یہ ہیں: کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، پھر زید کہتا ہے کہ مراد ہماری ان الفاظ سے تاکید ہے؟
الجواب: در مختار میں ہے: کرر لفظ الطلاق اس سے معلوم ہوا کہ قاضی اس کا اعتبار نہ کرے گا، اور دیانۃً اس کی نیت معتبر ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۲۲۷، مدلل مکمل) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
شوہر نے لفظ طلاق ایک دفعہ کہنے کے بعد اگر بار بار محض تاکید کی نیت سے دہرایا ہے اور خالی الذہن تھا، اور جدید طلاق کی نیت نہ کی تو دیانۃً ایک ہی طلاق واقع ہوئی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲۸۰، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.