"طلاق دیتا ہوں یہ حرفِ آخر ہے" کہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #47Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی سے الفاظ "میں عبد العزیز پورے ہوش کے ساتھ اپنی بیوی زاہدہ سلیمانی کو طلاق دیتا ہوں جس میں وہ پھر سے شادی کر سکتی ہے، اور یہ حرفِ آخر ہے" کہے، ان الفاظ سے طلاق رجعی ہو گی یا بائن؟

Answer

بصورتِ مسئولہ طلاق دیتا ہوں صریح الفاظ ہیں، جس سے رجعی طلاق واقع ہوتی ہے، لیکن ساتھ میں تاکید کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں، اس لئے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گی ۔ لہذا آپس میں رضامندی سے عدت میں یا عدت کے بعد نکاحِ جدید کر سکتے ہیں، اور عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ بھی شادی کر سکتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

إذا وصف الطلاق بضرب من الزيادة والشدة كان بائناً. (الهداية: ۲/۳٦۹، باب إيقاع الطلاق).

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما الصريح البائن

وهو أن يكون بحروف الإبانة أو بحروف الطلاق لكن قبل الدخول حقيقة أو بعده، لكن مقروناً بعدد الثلاث نصاً أو إشارة أو موصوفاً بصفة تدل عليها. (بدائع الصنائع: ۳/۱۰۹، بيان صفة الواقع، سعيد. وكذا في الشامي: ۳/۲۵۰، سعيد).

تبیین الحقائق میں ہے:

أنت طالق بائن أو البتة أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة أو كالجبل أو أشد الطلاق أو كألف أو ملأ البيت أو تطليقة شديدة أو طويلة أو عريضة فهي واحدة بائنة إن لم ينو الثلاث. وإنما كان بائناً في هذه لأنه وصف الطلاق بما يحتمله وهو البينونة. (البحر الرائق مع الكنز: ۳/۲۸۷، كوئته).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: زید نے اپنی زوجہ سے یہ کہہ دیا کہ میری طرف سے تجھے طلاق ہے، تو چلی جا اس صورت میں کیا حکم ہے؟
الجواب: اس صورت میں زید کی زوجہ پر طلاقِ بائنہ واقع ہو گئی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۲۷۰، ۲۷۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.