"ہماری اسلامی شادی ختم ہو گئی" کہنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 4 #51Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے متعدد بار یہ جملہ کہا "ہماری اسلامی شادی ختم ہو گئی" اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ فقہاء نے ان الفاظ "ہماری اسلامی شادی ختم ہو گئی" کو کنایات میں شمار کیا ہے، لہذا اگر طلاق کی نیت سے یہ الفاظ کہے تو اس کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہو گئی، اور صاحبِ بحر کی تصریح کے مطابق اس سے رجعی طلاق واقع ہو گی ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

وأشار بقوله تطلق إلى أن الواقع بهذه الكناية رجعي. (البحر الرائق: ۳/۳۰٦، كوئته).

لہذا متعدد بار کہنے سے اگر تاسیس کی نیت ہو، تاکید کی نہ ہو تو تین طلاقیں واقع ہوں گی ۔
فتاوی قاضيخان میں ہے:

لو قال لها: لا نكاح بيني وبينك أوقال: لم يبق بيني وبينك نكاح أوقال: فسخت نكاحك يقع الطلاق إذا نوى. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤٦۸، فصل في الكنايات. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۳۷۵، الفصل الخامس في الكنايات).

ہمارے اکابر نے بھی اس قسم کے الفاظ کو نیت پر موقوف مانا ہے، نیت ہو تو طلاق واقع ہو گی ورنہ نہیں ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند مکمل و مدلل میں یہ الفاظ کہ "میں نے تجھ کو زوجیت سے علیحدہ کر دیا" سے طلاق کو بشرطِ نیت تسلیم کیا ہے ۔
ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم دیوبند۹/۳۸۷، ۹/٤۷۱) ۔
نیز ملاحظہ ہو "میں نے عورت کے نکاح کا سوتا توڑ دیا" کو کنایات میں شمار فرمایا ہے، (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/٤۷۱) ۔ "تم میری زوجیت سے باہر ہو گئی" کہنے سے طلاق بشرطِ نیت فرمایا ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۳۸۲) ۔ احسن الفتاوی میں مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله نے بھی اس کے مشابہ الفاظ کو کنایات میں شمار فرمایا ہے، اور بشرطِ نیت طلاقِ رجعی کا حکم فرمایا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے: (احسن الفتاوی ۵/۱٤۲) ۔
یہاں ایک اشکال ذہن میں آتا ہے کہ نکاح سے علیحدہ کرنے یا زوجیت ختم کرنے کے الفاظ تو تقریباً صریح ہیں اور انشاء طلاق کی طرح ہیں تو پھر ان الفاظ سے طلاق کے وقوع کو نیت پر موقوف رکھنا کہاں درست ہے، بلکہ یہ تو فی الحال نفی نکاح یا طلاق کے لئے ہیں، نیز ان الفاظ کو جحود (یعنی دیدہ دانستہ انکار) پر محمول کرنا بھی مشکل ہے، کیوں کہ یہ فوری طور پر نکاح کو ختم کرنے کے لئے ہیں؟
اس کا جواب ذہن میں یہ آتا ہے کہ عرف میں یہ الفاظ نکاح کو باقی رکھتے ہوے تعلقاتِ نکاح نہ ہونے یا بیوی کے کسی اور سے تعلقات قائم رکھنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ جیسے کسی عورت کے اپنے شوہر سے تعلقات نہ ہوں تو کہا جاتا ہے، "ہمارا نکاح تو فلانہ کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ تو فلان کی منکوحہ ہے" الغرض نکاح ختم ہونا یا نکاح کے تعلقات اور ہم بستری ختم ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس لیے فقہاء نے اس کو کنایات میں شمار فرمایا ہے ۔
نیز "لا نکاح بیننا أو لست لي بزوجۃ" میں ایک احتمال یہ ہے: "لا نکاح بیننا لأن لکِ صلۃ وعلاقۃ بالغیر" اگر یہ ارادہ ہو تو طلاق نہیں ہو گی، اور اگر یہ ارادہ ہو: "لا نکاح بیننالأني طلقتکِ " تو اس سے طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.