It's all over (سب کچھ ختم) کہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #50Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا "It's all over" (سب کچھ ختم، ہمارا آپس میں تعلق ختم ہو گیا) تو کیا حکم ہے؟ طلاق واقع ہو گی یا نہیں، اور واقع ہو گی تو کون سی رجعی یا بائن؟

Answer

بصورتِ مسئولہ شوہر کا یہ کہنا (It's all over) یعنی سب کچھ ختم، ہمارا آپس میں تعلق ختم ہو گیا، در اصل یہ الفاظِ کنایہ میں سے ہے، اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے کہا ہے تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی، ورنہ بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

فالكنايات لا تطلق بها قضاءً إلا بنية أو بدلالة الحال وهي مذاكرة الطلاق أو الغضب. وفي الشامي: قوله "قضاء" قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحدة من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۹٦، سعيد).

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

ولو قال لم يبق بيني وبينك عمل إن نوى يقع. (خلاصة الفتاوى: ۲/۹۹، الفصل الثاني في الكنايات. وكذا في الفتاوى ا لهندية: ۱/۳۷٦، الفصل الخامس في الكنايات).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
ان الفاظ میں نیت سے طلاق پڑتی ہے، اگر شوہر کی نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہو گئی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند ۹/٤۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.