عیسائی عورت کے طلاقِ ثلاثہ کے بعد مسلمان ہونے سے سقوطِ حلالہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #364Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک مسلمان شخص نے عیسائی عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا، پھر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور شوہر نے عیسائی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اس کے بعد وہ عورت مسلمان ہو گئی، اب اگر یہ عورت سابق شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو حلالہ ضروری ہوگا یا اس کے بغیر نکاح درست ہے؟

Answer

اسلام لانے اور مذہب بدلنے کی وجہ سے حلالہ کا حکم ساقط نہیں ہوتا، اور حلالہ کے بغیر سابق شوہر سے نکاح جائز نہیں ہو جاتا۔ لہٰذا بصورتِ مسئولہ عیسائی عورت کے لیے سابق شوہر سے نکاح کے لیے شرعی حلالہ ضروری ہے، اس کے بغیر نکاح جائز نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:

وإذا كانت النصرانية تحت مسلم طلقها ثلاثاً فتزوجت نصرانياً ودخل بها حلت للمسلم الذي طلقها ثلاثاً. (الفتاوى الهندية: ۱/٤۷۳).

تبدیل مذہب سے حکمِ حلالہ ساقط نہیں ہوتا۔ ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:

ولا ينكح مطلقة من نكاح صحيح نافذ بها أي بالثلاث لوحرة

حتى يطأها غيره

أو حرة بعد ثلاث وردة وسبي نظيره من فرق بينهما بظهار أو لعان ثم ارتدت وسبيت ثم ملكها لم تحل له أبداً. وفي رد المحتار: قوله لم تحل له أبداً. أي ما لم يكفر في الظهار ويكذب نفسه أو تصدقه في اللعان، فوجه الشبه بين المسألتين أن الردة واللحاق والسبي لم تبطل حكم الظهار واللعان كما لم تبطل حكم الطلاق. (فتاوى الشامي: ۳/٤۱۲، سعيد).
تبيين الحقائق
میں علامہ زیلعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

كانت تحته حرة فطلقها ثلاثاً ثم ارتدت ولحقت بدار الحرب ثم استرقها لم تحل له حتى تتزوج بزوج آخر ويدخل بها لما تلونا نظيره: إذا ظاهر من امرأته أو لا عنها وفرق بينهما ثم ارتدت والعياذ بالله ولحقت بدار الحرب ثم استرقت وملكها الزوج الأول لم تحل له أبداً. (تبيين الحقائق: ۲/۲۵۹، ط: إمداديه).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
اس حرکت (ارتداد) سے بھی حلالہ ساقط نہیں ہوگا۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۳/۵۰۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے: مرتد ہو جانے سے طلاقِ ثلاثہ مغلظہ کا اثر باطل نہیں ہوتا ہے۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/٤٦٤، ط: دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.