حلالہ میں دخول کی شرط ساقط کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #43Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۳): طلاقِ ثلاثہ کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اب وہ شخص اس کے ساتھ دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے مگر حلالہ ضروری ہے، تو کیا حلالہ میں دخول کی شرط ساقط کرنے کا کوئی حیلہ ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ حلالہ میں زوج ثانی کا صحبت کرنا ضروری ہے، اس کے بغیر حلالہ نہیں ہوگا، اور عورت زوج اول کے لیے حلال نہ ہو گی، احادیث اور کتب فقہ سے یہ ثابت ہے، لہذا اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے، شریعت کے حکم کے مطابق عمل کرنے میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے، اگر چہ اس کی حکمت ہماری ناقص سمجھ سے بالا تر ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں امام ابو بکر جصاص رازی فرماتے ہیں:

قوله تعالى: ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره﴾ منتظم لمعان منها تحريمها على المطلق ثلاثاً حتى تنكح زوجاً غيره مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعاً لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة وذكر الزوج يفيد العقد وهذا من الإيجاز والاقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح وقد وردت عن النبي ﷺ أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني. (أحكام القرآن: ۱/۳۹۰، ذكر الحجاج لا إيقاع الطلاق الثلاث معاً، سهيل).

بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن رفاعة القرظي تزوج امرأة ثم طلقها فتزوجت آخر فأتت النبي ﷺ فذكرت أنه لا يأتيها وأنه ليس معه إلا مثل هدبة، فقال: لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك. (رواه البخاري: ۲/۸۰۱).

در مختار میں ہے:

ولا ينكح مطلقة من نكاح صحيح نافذ

وفي الشامي: ولا ينكح بها أي الثلاث لو حرة وثنتين لو أمة حتى يطأها غيره وتمضي عدته. (الدر مع الشامي: ۳/٤۱۳، باب الرجعة، سعيد).

فتح القدیر میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثاً أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها. (الهداية مع فتح القدير: ٤/۱۷۸، دار الفكر).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
بینونۃ غلیظہ میں دوبارہ نکاح کی صورت صرف یہ ہے کہ عورت عدت گزرنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کر لے اور وہ مرداس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد مر جائے یا طلاق دے دے پھر عدت وفات یا عدت طلاق گزر جائے تو باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔
(مجموعہ قوانین اسلامی: ۱٤۲ دفعہ ۲۰ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۳/٤۷۹، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.