حلالہ کی نیت سے کیا گیا نکاح لازم ہے:

2 min readFatwa Vol 3 #381Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۲): فیما ینعقد بہ النکاح و ما لا ینعقد

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اب اس عورت نے حلالہ کے لیے دوسرے شخص سے نکاح کیا یہ شخص طلاق دینا نہیں چاہتا ہے اور عورت بھی اس کے ساتھ رہنے پر راضی ہے تو اب اس نکاح کا کیا حکم ہے؟ اور یہ کہنا کہ اس نکاح میں حلالہ کی شرط لگائی تھی لہذا نکاح درست نہیں ہوا تو دونوں کا آپس میں رہنا درست نہیں کیا یہ صحیح ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں نکاح صحیح اور درست ہے اب شوہر طلاق نہ دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے کوئی اس کو مجبور نہیں کر سکتا، نیز صحیح مذہب کے موافق حلالہ کی شرط لگانے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ شرط خود باطل ہے اور نکاح صحیح ہے، اگر چہ ایسی شرط لگانا مکروہ ہے ۔ اور عام طور پر طلاق کی شرط نکاح میں نہیں لگاتے بلکہ یہ نکاح سے پہلے زبانی ذکر کی ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

وكره التزوج للثاني تحريماً لحديث لعن المحلل والمحلل له بشرط التحليل كتزوجتك على أن أحللك وإن حلت للأول لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال خلافاً لما زعمه البزازي

إلى قوله: لأنه لا شك أنه شرط في النكاح لا يقتضيه العقد وهو مما لا يبطل بالشروط الفاسدة بل يبطل الشرط ويصح فيجب بطلان هذا وأن لا يجبر على الطلاق. (فتاوى الشامي: ۳/٤۱۵، سعيد. ومثله في الحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۱۷٦، كوئته. والبحر الرائق: ٤/۵۸، كوئته. ومجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر: ۱/٤۳۸).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ۱/٤۷۳).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.