نکاح میں شرط لگانے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے یہ شرط لگائی کہ لڑکی مجھے کار دے گی تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور لینا کیسا ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں نکاح میں ایسی شرط لگانا صحیح نہیں ہے شرط خود باطل ہے اور نکاح صحیح اور درست ہے، اور کار لینا رشوت کے حکم میں ہے اس کو واپس کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
قال رحمه الله تعالى: وما لا يبطل بالشرط الفاسد القرض، والهبة، والصدقة، والنكاح، والطلاق،
هذه كلها لا تبطل بالشروط الفاسدة لما ذكرنا من أن الشروط الفاسدة من باب الربا وأنه يختص بالمبادلة المالية، وهذه العقود ليست بمعاوضة مالية، فلا يؤثر فيها الشروط الفاسدة، ألا ترى أنه عليه الصلاة والسلام أجاز العمري وأبطل شرط المعمر. (تيين الحقائق: ٤/۱۳۳، كتاب البيوع، متفرقات، إمدادية، ملتان).
نظام الفتاوی میں ہے:
لڑکی والوں سے شادی کے لیے یا شادی کے موقع پر لڑ کے والوں کا لینا یہ تلک کہلاتا ہے اور یہ عمل و رواج کافروں غیر مسلموں کا ہے، اور شریعت کی نگاہ میں ناجائز اور گناہ ہے، قرآنِ پاک میں اس کی ممانعت موجود ہے،
قال الله تعالى: ﴿يا ايها الذين اٰمنوا لا تكونوا كالذين كفروا﴾ (پ٤)
اور اس طرح لینا نکاح کی شرط کے درجہ کی چیز ہو کر حرام و رشوت کے درجہ کی چیز ہو جاتی ہے، جس کا واپس کر دینا لڑ کے پر اور لڑ کے والوں پر ضروری ہو جاتا ہے، اور اگر لڑکا یا لڑ کے والے واپس نہ کریں تو لڑکی یا لڑکی والے خود واپس لے سکتے ہیں، بالکل اسی طرح لڑکا یا لڑ کے والے لڑکی سے یا لڑکی والوں سے نکاح سے قبل نکاح کی شرط کے طور پر کچھ لیں تو شرعاً یہ چیز ممنوع اور رشوت کے درجہ میں ہو کر واجب الاعادہ ہو جاتی ہے ۔
كما صرح به في الشامي: ۲/۳٦۵. (
نظام الفتاوی: ۲/۲۱۷) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
ایسی شرطیں جو نکاح سے متعلق شریعت کے وجوبی احکام سے متصادم ہوں، جیسے یہ شرط کہ بیوی کا مہر نہیں ہوگا من جملہ انھیں شرائط کہ یہ ہے کہ شوہر عورت اور اس کے اہل خاندان سے کوئی مالی مطالبہ کرے، ایسی شرطیں بالاتفاق نامعتبر ہیں، اور نکاح پر بالاتفاق ان کا کوئی اثر نہیں ہوگا، نکاح منعقد ہو جائے گا، اور شرطیں لغو و بے اثر ہوں گی ۔ (جدید فقہی مسائل: ۲/۳۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.