طلاقِ ثلاثہ کے بعد شوہر کے منکر ہونے کا حکم:
Question
میرے شوہر نے مجھے خلوت میں غصہ کی حالت میں تین طلاقیں دیں جو میں نے اپنے کانوں سے سنیں، جب میں گھر جانے لگی تو اس نے روک دیا اور تین طلاق سے انکار کر دیا، اب میرے لیے کیا راستہ ہے؟
Answer
فقہاء نے لکھا ہے کہ عورت قاضی کی طرح ہے، اس لیے جب آپ نے طلاق خود اپنے کانوں سے سنی تو شوہر سے الگ رہے، لیکن اگر یہ صورت مشکل ہو کہ شوہر نہ چھوڑتا ہو اور نہ خلع کرتا ہو تو آپ اپنا معاملہ کسی شرعی قاضی یا حکم کے سامنے پیش کر دے، اور گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر پر قسم آتی ہے، اگر شوہر نے قسم کھا لی تو پھر آپ اس کے پاس رہ سکتی ہے، گناہ اس پر ہوگا، یہی مضمون فتاوی دار العلوم دیوبند میں کئی جگہ مذکور ہے ۔
لیکن اگر اس پر اشکال کیا جائے کہ اگر کوئی شخص رمضان المبارک کے چاند کی گواہی دے اور گواہی منظور نہیں ہوئی، تو وہ شخص خود روزہ رکھے گا، معلوم ہوا کہ قاضی کے مقابلہ میں صاحبِ واقعہ کا قول معتبر ہے اور طلاق کے مسئلہ میں قاضی کی بات مانی گئی، تو اس کا جواب یوں سمجھ میں آتا ہے کہ رمضان کے مسئلہ میں روزہ کا تعلق صائم سے ہے کسی اور سے نہیں، اس لیے روزہ رکھے، مسئلہ مذکورہ میں نکاح کا تعلق شوہر سے بھی ہے اور وہ حلفاً انکار کرتا ہے، لہذا اس کے حق کو تسلیم کرتے ہوے حتی الوسع الگ رہنے کے باوجود ہم بستری میں گناہ شوہر پر ہوگا ۔ نیز روزہ میں قضاء اور دیانت میں تعارض بھی نہیں، یہ روزہ رکھے اور لوگ نہ رکھے، لیکن زوجین میں قضاء اور دیانت میں تعارض ہے ۔
حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله کے سامنے جب شوہر کے طلاقِ ثلاثہ کے انکار اور عورت کے طلاقِ ثلاثہ کے دعوے کا مسئلہ آتا اور حضرت کو حکم بنایا جاتا تو عورت سے گواہ طلب کرتے اور جب عورت کے پاس گواہ نہ ہوتے تو شوہر سے قسم لیتے اور جب شوہر قسم کھاتا کہ میں نے تین طلاقیں نہیں دیں، تو بیوی سے فرماتے تم شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہو اگر شوہر جھوٹا ہوگا تو گناہ شوہر پر ہوگا، اس میں آسانی ہے اسی کی طرف بندہ کا میلان ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها إلا بقتله
وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي فإن حلف ولا بينة لها، فالإثم عليه. وفي الطحطاوي: قوله فالإثم عليه ولا إثم عليها بتمكينه من نفسها. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۷۸، باب الرجعة، كوئته).
فتاوی شامی میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه والفتوي على أنه ليس لها قتله ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي: أنها ترفع الأمر للقاضي فإن حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله. (فتاوى الشامي: ۳/۲۵۱، باب الرجعة، سعيد).
خلاصۃ الفتاوی میں ہے:
وفي فتاوى النسفي عن السيد الإمام أبي شجاع هكذا وفي فوائد شمس الإسلام إن لم يكن بينة ترفع إلى القاضي وتحلفه فإن حلف فالإثم عليه. (خلاصة الفتاوى: ۲/۱۲۰، المكتبة الرشيدية).
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
وفي التتارخانية وغيرها: سمعت المرأة من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها إلا بقتله لها قتله بالدواء ولا تقتل نفسها وقيل لا تقتله وبه يفتي وترفع الأمر إلى القاضي فإن لم تكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه. (مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: ۳/۳۲٦، باب الرجعة).
کفایت المفتی میں ہے:
اگر شوہر طلاق دینے سے انکار کرتا ہے تو قاضی کے سامنے طلاق ثابت کرنے کے لیے شہادت کی ضرورت ہے اور دو گواہ نہ ہو تو پھر اس شوہر سے حلف لیا جائے گا، اگر وہ حلف کر لے کہ میں نے طلاق نہیں دی تو قاضی طلاق نہ ہونے کا فیصلہ کر دے گا، لیکن اس فیصلہ سے عورت شوہر کے لیے اگر وہ فی الحقیقت طلاق دے چکا ہے حلال نہ ہو گی اور مدت العمر وہ حرام کاری میں مبتلا ہوگا ۔ فقط ۔ (کفایت المفتی: ٦/۸۲، دار الاشاعت) ۔
ایضاح النوادر میں ہے:
لیکن اس شکل میں عورت کو کوئی راستہ نہ ملے اور شوہر جھوٹی قسم کھا کر عورت کو اپنے پاس رکھ لیتا ہے تو عورت گنہگار نہ ہو گی بلکہ سارا گناہ شوہر پر ہوگا، مسئلہ کے اس پہلو کو حضراتِ فقہاء ان الفاظ سے ذکر کرتے ہیں
"والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرهاعدل لايحل لها تمكينه"
۔ (ایضاح النوادر: جلد دوم ۱۰٤) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (البحر الرائق: ۳/۲۵۷، باب الصریح، کوئتہ ۔ و الفتاوی الہندیۃ: ۳/۳۵۳ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۱٦، مبوب و مرتب ۔ فتاوی رحیمیہ: ۸/۲٦۸، مبوب و مرتب) ۔
اس مسئلہ کی ایک نظیر ملاحظہ فرمائیں:
امرأة زوجها في دار الغصب فتقول لا أقعد معك في أرض الغصب فإني أثمت بذلك ليس لها ذلك والإثم على الزوج. (الفتاوى السراجية:).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.