شوہر خط کا منکر ہو تو طلاق کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #85Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۵): طلاق بالکتابت کا بیان

Question

ایک شخص کچھ مدت کے لئے گھر سے چلا گیا، اس کی طرف سے ایک خط اس کے خسر کو ملا کہ: "میری طرف سے مہر معاف کرا دو، اور بیوی کو میری طرف سے اجازت ہے" اس پر دستخط بھی موجود نہیں تھے، اس شخص کو جب خبر ملی تو اس نے خط کا انکار کیا، تو کیا اب طلاق ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ وقوعِ طلاق کی بظاہر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی، اس لئے کہ شخصِ مذکور خط کا انکار کرتا ہے، اور خط میں طلاق کا کوئی لفظ بھی موجود نہیں ہے، بلکہ صرف اتنی بات ہے کہ میری طرف سے اجازت ہے ۔ یہ الفاظِ کنایہ میں سے ہے، اور نیت کی ضرورت ہے، اور جب شوہر خود انکار کر دے تو وقوعِ طلاق کا فیصلہ نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة، لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤۷، سعيد. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۳۷۹. وفتاوى محموديه: ۱۲/۵۹٤. والمحيط البرهاني: ۳/٤۲۹، رشيديه).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.