عدتِ طلاق کے دوران عدتِ وفات کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #158Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۲): عدت کا بیان

Question

ایک شخص نے عورت کو طلاق دے دی، عورت عدت طلاق میں تھی کہ شوہر کا انتقال ہو گیا، تو اب عورت طلاق کی عدت ختم کر لے یا وفات کی شروع کر لے یا علیحدہ گزارے کس طرح عدت گزارے گی؟

Answer

دورانِ عدتِ طلاق شوہر کے انتقال ہونے پر تین صورتیں ہیں، اور ہر ایک کا حکم علیحدہ ہے ۔
(۱) اگر عورت حاملہ ہے، تو اس کی عدت وضع حمل ہی رہے گی، اور بچے کی پیدائش سے دونوں عدتیں ختم ہو جائیں گی اگر چہ پیدائش چند لمحوں میں ہو جائے ۔
(۲) عورت حاملہ نہ ہو اور عدت طلاق رجعی کی ہو تو پہلی کالعدم ہو کر صرف عدت وفات گزارے گی ۔
(۳) عدت طلاق بائن کی ہو تو ابعد الاجلین گزارے گی یعنی جو زیادہ لمبی ہو وہ اختیار کرے گی ۔ ان میں سے ایک جلد پوری ہو جائے تو دوسری کے بقیہ ایام بھی گزار لے اس طرح دونوں پوری ہوں گی ۔ (آپ کے مسائل: ۵/٤۱۳) ۔
فتح القدیر میں ہے:

وإذا ورثت المطلقة في المرض فعدتها أبعد الأجلين أي الأبعد من أربعة أشهر وعشر وثلاث حيض، فلو تربصت حتى مضت أربعة أشهر وعشر ولم تحض لها ثلاث حيض بأن امتد طهرها لم تنقض عدتها حتى تمضي وأن مكثت سنين مالم تدخل سن الإياس فتعتد بالأشهر. ثم المراد بذلك الطلاق الطلاق البائن واحدة أو ثلاثاً أما إذا طلقها رجعياً فعدتها عدة الوفاة سواء طلقها في مرضه أو في صحته ودخلت في عدة الطلاق ثم مات الزوج فإنها ينتقل عدتها إلى عدة الوفاة وترث. (فتح القدير مع الهداية: ٤/۳۱۵، دار الفكر. والبحر الرائق: ٤/۱۳٦، كوئٹه. وبدائع الصنائع: ۳/۲۰۰، فصل في بيان انتقال العدة، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.