دورانِ عدت نکاح کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دی ایک حیض گزرنے پر اس نے تجدیدِ نکاح کیا، پھر دوسری طلاقِ بائن دی، اس کے بعد عدت کا پہلا حیض یکم مارچ سے ۱۱مارچ تک آیا، پھر عورت بتلاتی ہے کہ ۱۷، مارچ سے ۲٦، مارچ تک دوسرا حیض آیا اس کے بعد کسی اور شخص سے اس نے نکاح کیا پھر۱۲، اپریل سے ۲۱، اپریل تک تیسرا حیض آنے پر دوبارہ تجدیدِ نکاح کیا نکاح کے بعد اسی دن خون کے چند قطرے نظر آئے تو اب یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ نکاحِ ثانی دورانِ عدت واقع ہوا اس لیے کہ جو خون دیکھا، ۱۷، مارچ سے ۲٦، مارچ تک وہ حیض کا خون نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اس سے پہلے والے حیض کے ختم ہونے کے بعد ۱۵، دن کا وقفہ جو کہ اقل مدتِ طہر ہے نہیں پایا گیا، اور معتدۃ الغیر سے نکاح باطل ہے، لہذا شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کو چھوڑ دے اور اگر وہ چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو بیوی جمعیت کے ذریعہ اپنا نکاح فسخ کرا دے، اس کے بعد احتیاطاً عدت گزارے پھر عورت آزاد ہو جائے گی، اور کسی اور جگہ اگر چاہے تو نکاح کر سکتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
أقل الطهر بين الحيضتين أو النفاس والحيض خمسة عشر يوماً ولياليها إجماعاً. (الدر المختار: ۱/۲۸۵، سعيد).
حضرت تھانوی علیہ الرحمہ امداد الفتاوی میں عربی عبارات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
ازیں روایات معلوم شد کہ ایں نکاح (یعنی عدت میں نکاح) باطل است نیز واضح گشت کہ وجوبِ عدت دریں صورت مسئول عنہا مخلتف فیہ است و احوط وجوب ست ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵۰۵) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
نکاحِ فاسد کی صورت میں زوجین پر متارکت لازم ہے، اگر دونوں باہم جدا نہ ہوں تو قاضی دونوں کے درمیان تفریق کر دے گا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص ۲۰٦) ۔
یہاں چونکہ قاضی مفقود ہے اس لیے جمعیت قاضی کی قائم مقام ہے، وہ ایسے نکاح کو فسخ کرنے کی مجاز ہوگی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.