ہوائی جہاز کے حادثے میں شہید ہونے والوں کے ورثہ کا انشورنس کمپنی سے خون بہا وصول کرنے کا حکم:
Question
گزشتہ سال ایک ملک میں ایک جہاز گر گیا اور کافی سارے لوگ شہید ہو گئے، بین الاقوامی قانون کے مطابق ان وارثین کو ہر شہید پر ۵۰ لاکھ روپے ملیں گے، یہ رقم جہاز کے مالکان نہیں دیتے بلکہ جہاز کی کمپنی انشورنس کمپنی سے لے کر ادا کرے گی (انشورنس کمپنی غیر مسلم ہے اور جہاز کے مالکان مسلمان ہیں) اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہر جہاز کمپنی کے لیے انشورنس کرانا لازم ہے، اب سوال یہ ہے کہ یہ رقم شرعاً لینا جائز ہے یا نہیں ؟ گھر کے سرپرست کی شہادت کے بعد یہ رقم وارثین کے گزارے کا ایک ذریعہ ہے۔
Answer
بصورتِ مسئولہ جہاز سے گر کر شہید ہونا قتل خطا کے حکم میں ہے اور قتل خطا میں خون بہا کی ذمہ داری اصل عاقلہ پر عائد ہوتی ہے، لیکن فی زماننا چونکہ عاقلہ کا نظام نہیں ہے اس لیے تاوان کی ذمہ دار انشورنس کمپنی ہی عاقلہ کے قائم مقام ہے، کیوں کہ اس نے ذمہ داری قبول کی ہے، اور جہاز کے مالکان اور کمپنی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے چنانچہ معاہدہ کے تحت کمپنی تاوان کی ذمہ دار بن گئی۔ ہاں اس پر یہ اشکال وارد ہو سکتا ہے کہ جہاز مالکان اور انشورنس کمپنی کے درمیان سودی معاملہ ہوتا ہے اس لیے اگر جہاز مالکان ان سے رقم وصول کر کے مسلمانوں کو دیں تو جہاز مالکان کی جمع شدہ رقم سے زائد لینا درست نہیں ہونا چاہیے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر انشورنس کمپنی شہداء کے اولیاء کو براہ راست دے دے تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے کیوں کہ ان کے اور انشورنس کمپنی کے درمیان کوئی معاملہ نہیں ہوا ہے۔ بہرحال دوسرے مفتی حضرات کی رائے بھی معلوم کر لی جائے۔
معاہدہ کی وجہ سے ضمان لازم ہوگا۔ ملاحظہ ہو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
فالضمان عليه أي على الوكيل بالصلح كالوكيل بالنكاح إلا أن يضمنه لأنه حينئذٍ هو مؤاخذ بعقد الضمان لا بعقد الصلح. (الهداية: ۳/۲۵۰، باب التبرع بالصلح).
والخطأ على نوعين:
وموجب ذلك الكفارة والدية على العاقلة. (الهداية: ٤/ ۵٦۱، ط: شركة علمية).
الجنایات فی الفقہ الاسلامی میں مذکور ہے:
يشترط أن يقع من الجاني أو بسبب منه، فعل على المجني عليه، سواء أكان الجاني أراد الفعل وقصده، كما لو أراد أن يرمي صيداً، فأصاب إنساناً، أو وقع الفعل نتيجة إهماله وعدم احتياطه، دون أن يقصِده، كمن ألقي ماء ساخناً من مكان عالٍ، ولم يري المجني عليه، فوقع عليه فمات. والعقوبة الأصلية الأولي: الدية
واتفق الفقهاء على أن دية القتل الخطأ على العاقلة، مؤجلة في ثلاث سنين
(الجنايات في الفقه الإسلامي، ص ۲۰۳).
والعاقلة أهل الديوان ان كان القاتل من أهل الديوان
واهل الديوان أهل الرأيات
لأن العقل كان على أهل النصرة وقد كانت بأنواع بالقرابة والحلف والولاء والعد
ولهذا قالوا لوكان اليوم قوم تناصرهم بالحرف فعاقلتهم أهل الحرفة. (الهداية: ٤/۶۴۵، شركة علمية).
قال الإمام أبو حنيفة رحمه الله: إن العاقلة هم الذين يتناصر بهم القاتل
ولنا قضية عمر رضي الله عنه، فالحاصل أن قضاء عمر رضي الله عنه بمحضر من الصحابة دل على أن الحكم كان مناطه النصرة فيتغير بتغيره ويمكن أن يقال في عصرنا: أن التناصر أصبح للعمال بوفاتهم الذي يسمي "تريد يونين" فينبغي أن تكون عاقلة عامل وفاقه
(تكملة فتح الملهم: ۲/۳۷۹، كراچي).
اسلامی فقہ میں ہے:
اگر موٹر ریل اتفاق سے لڑ جائے یا ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہو جائے یا کسی انسان یا بہت سے انسانوں کی جان چلی جائے تو اس جانی نقصان کی ذمہ داری ڈرائیور یا پائلٹ پر نہیں ہو گی بلکہ وہ کمپنی یا حکومت پر ہو گی اس لیے ایسے اتفاقی حادثات کی دیت (خون بہا) کی ذمہ داری فقہاء عاقلہ پر ڈالتے ہیں، ابتدائے اسلام میں اہل دیوان یعنی ایک صنف کے لوگوں کے لیے جو رجسٹر ہوتا تھا وہ سب ایک دوسرے کے عاقلہ تھے، پھر اس کے بعد خاندان اور قبیلہ و برادری وغیرہ پر اس کی ذمہ داری ڈالی گئی، لیکن اب یہ صورت بھی بدل گئی ہے، اب کمپنی، کار خانہ اور حکومت پر یہ ذمہ داری ہونی چاہیے، فقہاء نے اسے قتل خطا پر محمول کیا ہے، کمپنی یا کارخانہ دار یا حکومت، ڈرائیور اور پائلٹ کو سزا تو دے سکتی ہے، لیکن ان پر دیت یعنی خون بہا کی ذمہ داری نہیں ڈال سکتی، بہرحال یہ نئے مسائل ہیں، ان پر علماء کو مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ (اسلامی فقہ، جلدِ دوم، ص
٦٤۳
، بعنوان بے جان سواریوں کا حکم)۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
اصل ہرجانہ ٹرک ڈرائیور کے ذمہ لازم تھا، جس کے بقدر دیت مطالبے کا حق تھا، اس سے زائد مطالبے کا حق نہیں ، لیکن قاتل خطا خود زائد دے تو لینا جائز ہے، رہا انشورنس کمپنی سے وصول کرنا، تو انشورنس کرانے والے نے اب تک کسی بھی مد میں جتنا پریمیم جمع کرایا ہو اس حد تک تو وصول کرنا بے غبار طور پر جائز ہے، اس سے زائد میں یہ تاویل ہو سکتی ہے کہ انشورنس کمپنی اس کی عاقلہ کے قائم مقام سمجھی جائے، اس کو عاقلہ بنانے کے لیے جو عقد ناجائز کیا گیا وہ دونوں کا عمل ہے جس کے وہ خود ذمہ دار ہیں، لیکن جب عرفاً و قانوناً وہ عاقلہ کے قائم مقام بن گئی تو اس سے وصول کرنے کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اور اگر چہ انشورنس کمپنی کا مال اکثر عقودِ فاسدہ کی وجہ سے حرام ہونے کا بھی گمان غالب ہے، لیکن کفار اہل حرب کے مخاطب بالفروع نہ ہونے کی بنا پر گنجائش معلوم ہوتی ہے، مگر اس پر پورا جزم نہیں ، غور کر لیا جائے، اور دوسرے علماء سے بھی رجوع کر لیا جائے۔ (فتاوی عثمانی:
۳
/
۵۴۴
)۔
اصل مالِ حرام کا مصرف مالکین کو پہنچانا ہے لیکن اگر مالک کا پتا معلوم نہ ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے۔
قال العلامة الشامي رحمه الله: ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۵، سعيد).
لیکن اگر کافر کے پاس سود کا مال آ جائے تو کافر اس مال کا مالک بن جائے گا۔ (فتاوی دار العلوم زکریا:
۵
/
۳۹۳
)۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے: ایکسیڈنٹ میں رقم لینا جائز ہے یا نہیں ؟
دیت شرعاً عاقلہ پر لازم ہوتی ہے مگر اس زمانہ میں عاقلہ پر لازم کرنا بہت مشکل ہے اس کے لیے تو شرعی قاضی چاہیے جس کے پاس قوتِ نافذہ ہو، فی زماننا ہمارے علم کے مطابق ایسی رقم عدالت بیمہ کمپنی سے دلواتی ہے اگر بیمہ کمپنی رقم ادا کرتی ہو تو چونکہ بیمہ کمپنی کی آمدنی زیادہ سودی کاروبار سے حاصل ہوتی ہے لہذا اگر اس کے ورثاء بے حد محتاج اور ضرورت مند ہوں تو ان کے لیے بیمہ کمپنی سے رقم لے کر بقدرِ ضرورت استعمال کرنے کی گنجائش ہے اور زائد از ضرورت غرباء کو دے دیں اور اگر وہ محتاج نہ ہو تو پوری رقم غرباء اور مساکین کو دے دی جائے۔ (فتاوی رحیمیہ:
۹
/
۳۱
، دار الاشاعت)۔ لیکن ما قبل میں جو لکھا گیا ہے، مفتی عبد الرحیم صاحب مرحوم نے اس کے خلاف لکھا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.