تھرڈ پارٹی انشورنس کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #198Urdu
Vol. 5كتاب البيوعبابِ: سودی مصارف کا بیان

Question

تھرڈ پارٹی انشورنس جائز ہے یا نہیں؟ جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی پر مستقبل میں کوئی ذمہ داری آسکتی ہے، اس ذمہ داری سے نمٹنے کے لیے بیمہ کرایا جاتا ہے ۔ مثلاً گاڑی روڈ پر لانے سے حادثے کے نتیجے میں کسی دوسرے کا نقصان ہونے کا خطرہ ہے، اس صورت میں گاڑی چلانے والے پر مالی تاوان لازم ہو جائے گا، اس کا بیمہ کرا لیا جاتا ہے اور حادثے کے وقت تاوان کی ادائیگی بیمہ کمپنی کرتی ہے ۔ اس کو عموماً (Third party insurance) کہتے ہیں ۔ بعض مغربی ممالک میں یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنے گھر کے سامنے برف صاف نہ کی اور کوئی شخص اس برف سے پھسل گیا جس سے اس کا جسمانی نقصان ہوا تو وہ گھر والے پر مقدمہ کر کے اس سے بھاری تاوان وصول کرتا ہے، اس خطرے سے بچنے کے لیے بھی گھر کے مالکان بیمہ کر لیتے ہیں، یہ بھی
"تأمين المسئولية"
کی ایک شکل ہے جس میں تاوان دینا پڑے تو بیمہ کمپنی تاوان ادا کرتی ہے ۔ اس انشورنس کا کیا حکم ہے؟ بینوا بالتفصیل توجروا باجر جزیل ۔

Answer

تھرڈ پارٹی انشورنس کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے، بعض علماء ناجائز کہتے ہیں، مثلاً مفتی تقی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں ہر قسم کا انشورنس حرام اور ناجائز ہے، اس لیے کہ ربا اور قمار پر مشتمل ہے، ملاحظہ ہو: (فتاوی عثمانی: ۳/۳۲۸، واسلام اور جدید معاشی مسائل: ۷/۲۹۰، واسلام اور جدید معیشت و تجارت، ص ۱٦۱)، اور دیگر بعض کا میلان جواز کی طرف ہے ۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مباحث میں ہے:
حادثہ اگر ڈرائیور کی غلطی سے ہوا ہے اور اس میں اگر کسی شخص کی موت واقع ہو گئی ہے تو شریعت کی رو سے قتل خطا کی دیت ادا کرنے کی ذمہ داری ڈرائیور پر عائد ہوتی ہے، مگر وہ دیت کی بڑی رقم کہاں سے ادا کرے گا؟ اسلام نے عاقلہ (اس کے خاندان) کو دیت کی ادائیگی میں شریک کیا تھا لیکن موجود ہ زمانہ میں خاندانی سسٹم نہیں رہا اور ڈرائیور بالعموم اس بوجھ کا محتمل نہیں ہوتا اس لیے موجود ہ متمدن دنیا نے تھرڈ پارٹی انشورنس کا یہ طریقہ رائج کر کے بہت بڑی سہولت فراہم کر دی ہے یہ انشورنس در حقیقت تعاون ہی کی ایک شکل ہے، یہ اور بات ہے کہ اس کے نظام میں کچھ فاسد چیزیں بھی شامل ہو گئی ہیں، مگر اس بنا پر اس معاملہ کو جو ایک ناگزیر تمدنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ناجائز نہیں قرار دیا جا سکتا ۔
غرض یہ کہ تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس موجود ہ دور کی ایک اہم ضرورت اور جائز نوعیت کا معاملہ ہے اگر چہ اس کے نظام میں فاسد اجزاء بھی شامل ہو گئے ہیں جس کا گناہ ان لوگوں کے سر ہے جو اس نظام کو چلاتے ہیں ۔ (جدید فقہی مباحث: ٤/۲۹٦ ۔ ۲۹۷، مرتب قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمه الله) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
فقیر کا خیال ہے کہ انشورنس کی یہ صورت ہر اس سماج میں جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے، جہاں ایسے مواقع کے لیے نظامِ معاقل عملی طور پر موجود نہ ہو، انشورنس کی اس صورت میں تو سود کا سوال ہی نہیں کہ بیمہ کرانے والے کو حادثہ پیش نہ آنے کی صورت میں کوئی رقم واپس نہیں ملتی، البتہ ایک گنا خطر موجود ہے کہ اگر وہ حادثہ سے محفوظ رہا تو اس کو اپنی جمع شدہ رقم سے ہاتھ دھونا ہو گا، حادثہ پیش آیا تو اس سے بڑھ کر اعانت حاصل ہو گی، مگر غور کیا جائے تو اس درجہ کا خطر خود معاقل کے نظام میں بھی ہے، ولاءِ موالات میں بھی ہے اور بعض اور معاملات میں بھی ہے، اصل یہ کہ انشورنس کی یہ صورت از قبیل تبرعات ہے، بیمہ کی قسط ادا کرنے والا اپنے ہم پیشہ لوگوں کے لیے تبرع پیش کرتا ہے اور کبھی وہ خود اس میں مبتلا ہو جائے تو اپنے ہم پیشہ لوگوں کی مدد سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۱۲۰) ۔
اس معاملہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں سود کا پہلو نہیں ہے اس وجہ سے کہ انشورنس کمپنی رقم ادا نہیں کرتی بلکہ دوسرے کی گاڑی ٹھیک کرا دیتی ہے، تو یہ خدمت کا معاوضہ ہے، ہاں اس میں غرر موجود ہے اس طور پر کہ ہو سکتا ہے کہ کبھی کار کا ایکسیڈنٹ نہ ہو تو ایک طرف ادائیگی یقینی ہے اور دوسری طرف یقینی نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غررِ یسیر ہے جو مفضی الی النزاع نہیں ہے اور فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں غررِ یسیر قابل برداشت ہے مفسدِ عقد نہیں ہے ۔
غرر سے متعلق فقہاءِ کرام کی چند عبارات ملاحظہ فرمائیں:

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.