(Transit insurance) ٹرانزٹ انشورنس کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #383Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

کیا ٹرانزٹ انشورنس جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً: جنوبی افریقہ سے بوٹسوانا تک، کیوں کہ گزشتہ مہینہ ایک دوست کی گاڑی لوٹ لی گئی تھی، جس میں تقریباً دو لاکھ رینڈ کا تجارتی سامان تھا، اب اس کو ڈر ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہو سکتا ہے تو کیا اس کے لیے انشورنس کرانا جائز ہو گا یا نہیں؟

Answer

ہر وہ انشورنس جس میں جمع شدہ رقم کے عوض میں زیادہ رقم ملتی ہو ناجائز ہے، ہاں اگر جمع شدہ رقم کے عوض میں علاج کی خدمت ملتی ہو یا کار وغیرہ کی مرمت ملتی ہو تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے، بظاہر صورتِ مسئولہ میں سامانِ تجارت ضائع ہونے کے وقت رقم ملتی ہے اور زیادہ ملتی ہے، بنا بریں ایسا معاملہ ناجائز ہے، اس سے بچنا چاہیے ۔ فی زماننا انشورنس دراصل سود و قمار کا مجموعہ ہے، یہ دونوں بنگاہِ شریعت ناجائز ہیں ۔
مفتی کفایت اللہ صاحب فرماتے ہیں:
بیمہ کمپنیوں سے دوکانوں کار خانوں، عمروں کا بیمہ کرانا ناجائز ہے کیوں کہ بیمہ ربا اور قمار پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دونوں ناجائز ہیں ۔ (کفایت المفتی: ۸/۸۳، دار الاشاعت) ۔
کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے:
جان و مال کا انشورنس اصل میں جائز نہیں، کیوں کہ اگر پالیسی مکمل کی تو پالیسی لینے والا جتنی رقم ادا کرتا ہے، کمپنی اس سے زیادہ رقم واپس کرتی ہے اور یہ سود ہے اور اگر پالیسی مکمل ہونے سے پہلے حادثہ پیش آگیا تو رقم پوری مل جاتی ہے حالانکہ اس نے چند قسطیں ہی جمع کی ہیں، گویا پالیسی لینے والے کو اپنی پالیسی کا انجام معلوم نہیں، کسی کو دو تین قسطوں کی ادائیگی پر پوری رقم مل جائے گی، اور کسی کو تمام ادا کرنی ہو گی، ظاہر ہے کہ یہ صورت قمار میں داخل ہے، پس انشورنس سود اور قمار سے مرکب صورت ہے، اور شریعت میں ان دونوں کی ممانعت ہے اس لیے اصلاً یہ صورت جائز نہیں ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۳۵۸) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٤٤٦ ۔ ٤۵۲، ط: زمزم پبلشرز) ۔
البتہ بعض مرتبہ ٹرانزٹ انشورنس لازمی ہوتا ہے اس کے بغیر داخلہ کی اجازت نہیں دیتے تو اس کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٤٤۳، ط: زمزم پبلشرز) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.