والدین کے قاتل کی نماز ِ جنازہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #10Urdu
Vol. 3باب (۱۹): احکام الجنائز

Question

ایک شخص نے اپنے باپ کو وراثت کے لیے قتل کیا اس کے بعد وہ قاتل کچھ مدت کے بعد مر گیا اس کا جنازہ پڑھا جائے گا یا نہیں، اور قاتل وراثت کا مستحق ہے یا نہیں؟

Answer

والدین یا ان میں سے کسی ایک کا قاتل اگر قصاص میں قتل کیا جائے تو اس کا جنازہ نہیں پڑھا جائے گا، اور اگر اپنی موت مر جائے تو جنازہ پڑھا جائے گا ۔ اور قاتل میراث کا مستحق نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:

لا يصلي على قاتل أحد أبو يه عمداً إهانة له وزجراً لغيره. (إمداد الفتاح: ٦۳۱، بيروت).

شرح منیۃ المصلی میں ہے:

ومن قتل أحد أبو يه لا يصلي عليه إهانة له ذكره في جوامع الفقه. (شرح منية المصلي: ۵۹۱).

شامی میں ہے:

لا يصلي على قاتل أحد أبو يه إهانة له وألحقه في النهر بالبغاة، الظاهر أن المراد أنه لا يصلي عليه إذا قتله الإمام قصاصاً، أما لو مات حتف أنفه يصلي عليه كما في البغاة ونحوه. (الشامي: ۲/۲۱۲، سعيد).

قاتل کو وراثت سے محروم کر دیا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: "القاتل لا يرث". (ابن ماجه: ۱۹۰).

سراجی میں ہے:

المانع من الإرث أربعة الرق وافراً كان أو ناقصاً والقتل الذي يتعلق به وجوب القصاص أو الكفارة. (السراجي في الميراث: ص ۵).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.