مالِ حرام میں وراثت کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #339Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضبابِ دوم: میراث سے متعلق احکام کا بیان

Question

ایک شخص کے والد کے پاس مالِ حرام تھا اس کے انتقال کے بعد اس کے وارث اس مال کولے سکتے ہیں یا نہیں یعنی مالِ حرام میں میراث جاری ہو گی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر وارث کوکسی چیز کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ ناجائز طریقہ سے حاصل ہوئی ہے تو وارث پر لازم ہے کہ وہ بعینہٖ چیز مالک کو پہنچا دے، میراث میں اس کا لینا جائز نہیں ہے، لیکن اگر یقینی طور پر کسی چیز کے بارے میں معلوم نہیں کہ غلط طریقہ سے حاصل ہوئی فقط اتنا جانتا ہے مرحوم سود، رشوت ہر طریقہ سے پیسے حاصل کر لیتا تھا اور کمائی کے جائز طریقے بھی تھے اور جائز طریقے غالب تھے تو مخلوط اور نامعلوم ہونے کی بناپر کل مال میں وراثت جاری ہو گی ہاں اگر ورثہ آپس کی رضامندی سے مال کی کچھ مقدار صدقہ کر دے تو بہتر ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، قوله إلا في حق الوارث، أي فإنه إذا علم إن كسب مورثه حرام يحل له لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه. وفي منية المفتي: مات رجل ويعلم الوارث أن أباه كان يكسب من حيث لا يحل ولكن لا يعلم الطالب بعينه ليرد عليه حل له الإرث والأفضل أن يتورع ويتصدق بنية خصماء أبيه. وكذا لا يحل إن علم عين الغصب مثلاً وإن لم يعلم مالكه لما في البزازية: أخذ مورثه رشوة أو ظلماً إذا علم ذلك بعينه لا يحل له أخذه وإلا فله أخذه حكماً أما في الديانة فيتصدق به بنية إرضاء الخصماء.
والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه وإن كان مالاً مختلطاً مجتمعاً من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئاً منه بعينه حل له حكماً والأحسن ديانة التنزه عنه. (فتاوى الشامي: ۵/۹۹، سعيد). وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۹، كتاب الكراهية).

امداد الفتاوی میں مرقوم ہے:
ہرچند بعض فقہاء نے مطلقاً مالِ حرام کو وارث کے لیے حلال کہا ہے لیکن یہ روایت صحیح نہیں ، مفتی بہ اور معتمد یہ ہے کہ اُن کے لیے بھی حرام ہے، پس اگر اربابِ حقوق ورثہ کو معلوم ہیں تو اگر بعینہٖ اُن کی چیز محفوظ ہو تو اس کو ورنہ اس کی قیمت واپس کر دیں، اور اگر معلوم نہیں تو اگر مالِ حرام معین اور متمیز ہے تو اس کو مالک کی نیت سے تصدق کر دیں، اور اگر مخلوط غیر متمیز ہے تو اگر اس کی مقدار قیمت معلوم ہے اس کو تصدق کر دیں، ورنہ تخمینہ کر کے تصدق کر دے ان شاء اللہ تعالی آخرت میں مواخذہ نہ ہوگا۔ بحوالہ شامی۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۳۵۰
)۔
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
اگر اس مال کا اصل مالک معلوم ہے تو اس کا واپس کرنا ضروری ہے۔ اگر معلوم نہیں ، البتہ وہ مال بجنسہٖ جو حرام ہے معلوم ہے تو کسی فقیر کو صدقہ کرنا اصل مالک کو ثواب پہنچانے کی نیت سے ضروری ہے۔ اور اگر مال مخلوط ہے، یہ معلوم نہیں کہ کون سا حرام اور کون سا حلال ہے تو ورثاء کو استعمال کرنا درست ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ اس سے احتیاط کریں، یعنی اگر مالک کا علم ہو تو اس کودے دیں، ورنہ صدقہ کر دیں۔
اگر تمام مال حرام ہے تو اس کا استعمال درست نہیں ، مالک معلوم ہونے کی صورت میں واپسی ضروری ہے، نہ معلوم ہونے کی صورت میں صدقہ کر دیا جائے۔ (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
۳٤۰
، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.