میراث میں سے کچھ مال چھپانے پر گزشتہ کی زکوٰۃ کا حکم:
Question
ایک شخص کا انتقال تیس سال قبل ہوا تھا، مرحوم کی وراثت تقسیم ہو چکی تھی، لیکن ایک وارث نے مرحوم کے ترکہ میں سے ایک زیور چھپا لیا تھا، پھر تیس سال کے بعد اس کے دل میں خوفِ خدا پیدا ہوا اور زیور کو ظاہر کیا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان ورثاء پر جن کو زیور کی بالکل خبر نہ تھی گزشتہ تیس سال کی زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ جن ورثاء کو معلوم نہیں تھا ان پر زکوٰۃ واجب نہیں البتہ چھپانے والے پر اس کے حصہ کے بقدر گزشتہ تیس سال کی زکوٰۃ واجب اور لازم ہو گی ۔ جن ورثاء کو معلوم نہیں تھا ان کے حق میں یہ زیور مالِ غائب یعنی مالِ ضمار کے حکم میں تھا کہ اس پر ملکیت بھی تام نہیں تھی اور قبضہ بھی نہیں تھا اور مالِ ضمار کا حکم یہ ہے کہ ملنے کے بعد سال ختم ہونے پر زکوٰۃ واجب ہو گی اور گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قوله ولا في مال مفقود، شروع في مسألة مال الضمار
قوله بعدها أي بعد سنين، قوله حديث على رضي الله عنه لا زكاة في مال الضمار
قال في البحر: وهو في اللغة: الغائب الذي لا يرجي فإذا رجي فليس بضمار وأصله الإضمار وهو التغييب والإخفاء، ومنه أضمر في قلبه. (فتاوى الشامي: ۲/۲٦٦، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: (
العناية شرح الهداية: ۲/۱٦٤، وفتح باب العناية: ۲/۸٤).
امداد الفتاوی میں مرقوم ہے:
اگر خود گم ہو گیا تو سالہائے گزشتہ کی زکوٰۃ ساقط ہو گئی، اور اگر بعد گم ہونے کے مل گیا تو دیکھنا چاہیے اگر اس سالِ زکوٰۃ پورا ہونے کے بعد ملا ان ایام گم گشتگی کی زکوٰۃ نہ آئے گی،
ولا في مال مفقود وجده بعد سنين
، رہا آئندہ کے لیے زکوٰۃ کا آنا اس کا حکم یہ ہے کہ اگر سوائے اس کے اس شخص کے پاس پہلے سے اس قسم کا نصاب ہے تو اس کے ساتھ اس کی زکوٰۃ بھی دی جائے گی ۔ اور اگر نصاب سے کم ہے تب پانے کے وقت سے سال کامل گزرنا شرط ہوگا ۔
والمستفاد وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه فيزكيه بحول الأصل، قوله إلى نصاب قيد به لأنه لوكان النصاب ناقصاً وكمل بالمستفاد فإن الحول ينعقد عليه عند الكمال، شامي،
(
امداد الفتاوی: ۲/۵۳) ۔
مزید دیکھیے: (عمدۃ الفقہ: ۳/۲۲) ۔ مالِ ضمار سے متعلق مزید تفصیلات ما قبل میں گزر چکی ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.